خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 573
خطبات طاہر جلد۵ 573 خطبه جمعه ۲۹ را گست ۱۹۸۶ء تلقین بیت الذکر مردان کے انہدام کے حالات اور صبر کی تلخ احمدیت نے ضرور غالب آنا ہے ( خطبه جمعه فرموده ۲۹ را گست ۱۹۸۶ء بمقام بیت النور اوسلو، ناروے) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے مردان میں ہونے والے ایک نہایت ہی دردناک واقعہ کا ذکر کیا تھا کہ کس طرح بعض مسلمان کہلانے والے جنونی ملانوں نے حکومت کی سرپرستی میں، حکومت کے نمائندوں ،ان کے افسران ان کی پولیس کے ساتھ مل کر اور ان کی حفاظت میں ،مسجد احمد یہ مردان کو مسمار کرنا شروع کیا اور جتنے بھی نمازی وہاں اس سے پہلے نماز پڑھ رہے تھے یعنی عید کی نماز ان سب کو پولیس نے اپنی حراست میں لے کر اور ویگن بھر بھر کے حوالات میں داخل کرنا شروع کیا اور جب مسجد خالی ہوگئی ، جب ملانوں کو کوئی خوف نہیں رہا کہ اندر سے کسی قسم کی جوابی کارروائی ہوگی تو پھر انہوں نے نعرہ ہائے تکبیر بلند کر کے مسجد پر ہلہ بول دیا۔یہ ان کا ایمان ہے، یہ ان کے تصور کی اڑان ہے۔اور اب جو تفصیلات وہاں سے معلوم ہوئی ہیں حیرت ہوتی ہے یہ دیکھ کر کہ ہر دفعہ جب وہ مسجد پر ہلہ بولتے تھے اور اسے مسمار کرتے تھے تو نعرہ ہائے تکبیر بھی بلند کرتے تھے اور لبیک اللھم لبیک کہتے تھے کہ اے اللہ ! ہم تیری آواز پر لبیک کہتے ہوئے تیری عبادت گاہوں کو مسمار کر رہے ہیں۔وہ کونسا اللہ ہے جس کو مخاطب کر کے وہ کہتے تھے اللھم لبیک۔وہ محمد مصطفی ﷺ کا اللہ تو نہیں جو غیروں کی عبادت گاہوں کی بھی حفاظت کی تعلیم دیتا ہے، وہ خدا جو عیسائیوں کے معبد کی حفاظت کی