خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 563 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 563

خطبات طاہر جلد۵ 563 خطبه جمعه ۲۲ را گست ۱۹۸۶ء اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کچھ پاکستان میں جماعت کے حالات کی بنا پر ان کو اس بات کی جرات ہوئی لیکن میں ہندوستان کے ان انتہا پسند آریوں اور دیگر مذہبی جنونیوں کو بتادینا چاہتا ہوں کہ کسی قیمت پر بھی جماعت احمد یہ اس جہاد سے باز نہیں آئے گی۔حضرت ابو بکر صدیق کی سنت، آپ کا اسوہ ہمارے لئے کافی ہے۔اس معاملہ میں وہ سنت اور وہ اسوہ بعینہ ان حالات پر چسپاں ہو رہا ہے۔جب ہر طرف اسلام کے خلاف اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت پھیل گئی اور تمام عرب میں قبائل نہ صرف مرتد ہونے لگے بلکہ مرکز اسلام پر حملہ آور ہونے لگے۔بہت ہی درد ناک طریق پر مسلمانوں کو جو چند مسلمان ان کے علاقوں میں ایسے تھے جنہوں نے ارتداد کا انکار کیا ان کو قتل کیا گیا ، انکے گھر جلائے گئے ، ہر طرح کی اذیتیں دی گئیں یہاں تک کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ سارا عرب اسلام کا باغی ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہو گا۔اس وقت حضرت ابوبکر صدیق نے جو حیرت انگیز اسلامی حمیت اور غیرت کا نمونہ دکھایا اور انتہائی کمزور ہونے کے باوجود بڑی کامیابی اور عزم کے ساتھ اور کامل تو کل کے ساتھ ، دعاؤں کیساتھ ، اس تحریک کے مقابلہ پر مسلمانوں کو صف آراء کیا اور انتہائی کامیابی کے ساتھ اس مہم کو آخر تک پہنچایا یہاں تک کہ سارے عرب میں ایک بھی باغی باقی نہیں رہا۔اور یہ عظیم الشان واقعہ چند سالوں کے اندر اندر ہوا ہے اور حضرت ابوبکر صدیق کی طبیعت کا حلم اور بظاہر جو کمزوری تھی اور نرمی اور رفق پایا جاتا تھا اس کے پیش نظر آپ کا یہ اسوہ اور بھی زیادہ حیرت انگیز دکھائی دینے لگتا ہے۔کیسا عزم اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا، کیسی ہمت بخشی کہ اتنے زیادہ غالب دشمن کے مقابل پر اتنے تھوڑے مسلمانوں کے ساتھ جنگی لڑنے کی اہلیت رکھنے والی اکثریت ایک ایسے سریہ پر بھجوائی جارہی تھی جو عرب کے شمال میں عالم اسلام کی سرحدوں پر واقع ہونے والا تھا۔اور باوجود اس کے کہ اس کی شدید ضرورت تھی مدینہ میں چونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے وہ سر یہ مقرر فرمایا تھا اس لئے آپ نے اس لشکر کو بھی نہیں روکا۔گویا کمزوری کی حالت اس سے بہت زیادہ خطر ناک تھی جو ویسے بھی مؤرخین کو صاف دکھائی دیتی ہے۔اگر وہ لشکر باہر نہ بھی بھجوایا جاتا تو مدینہ کے مسلمانوں کی حالت ایسی نہیں تھی کہ سارے عرب کے قبائل کا مقابلہ کر سکے۔اگر وہ لشکر نہ بھی بھجوایا جاتا تب بھی ان عرب قبائل کے مقابلہ کے لئے صف آراء ہو جانا ایک عظیم ہمت کا مظہر ہے لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اکثر لڑنے والے بہادر جنگجو جوان عمر سے تعلق رکھنے والے صحابہ کرام کو سریہ پر بھجوایا جار ہا تھا تو پیچھے