خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 562
خطبات طاہر جلد۵ 562 خطبه جمعه ۲۲ را گست ۱۹۸۶ء دباؤ کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ پا کر ہندو ہونے شروع ہوئے۔اس وقت جماعت احمدیہ ہی کو یہ توفیق ملی کہ اس انتہائی خوفناک سازش کو بے نقاب کرے اور حضرت مصلح موعود کو اللہ تعالیٰ نے اس شدھی کی تحریک کے خلاف ایک انتہائی کامیاب جہاد شروع کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔تمام ہندوستان کے مسلمان علماء کو خطوط بھی لکھے گئے ، وفود بھیج کر ان سے ملاقاتیں کی گئیں ، ان کی غیرت کو ابھارا گیا، ان کی حمیت کو اکسایا گیا ، ان کی منتیں بھی کی گئیں، ان کو طرح طرح سے اسلام کی محبت کے واسطے دے کر اس بات پر آمادہ کیا گیا کہ اپنے وقتی اختلافات کو چھوڑ دو اور سارے مل کر اسلام کے خلاف اس انتہائی خوفناک سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہو جاؤ۔کچھ عرصہ تک یہ کام بہت اچھا چلا اور چونکہ اس وقت کے اہل بصیرت مسلمان علماء یہ سمجھتے تھے کہ جماعت احمد یہ جب تک اس تحریک میں مرکزی کردار ادا نہ کرے یہ تحریک کامیاب نہیں ہوسکتی اس لئے انہوں نے جماعت احمدیہ کی تائید کی اور ہر طرح سے اس معاملہ میں جماعت سے تعاون بھی کیا بلکہ حضرت مصلح موعودؓ کو خطوط لکھ کر کھلم کھلا اس بات کا بھی اقرار کیا کہ اگر آپ نے اس تحریک کی پشت پناہی نہ کی اور بھر پور حصہ نہ لیا تو ہمیں ڈر ہے کہ یہ تحریک مر جائے گی۔اس کی تفصیل دہرانے کا تو وقت نہیں، یہ تاریخ کی باتیں ہیں اور مختلف اخبارات اور رسائل اور کتب کی زینت بن چکی ہیں۔آج میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حال ہی میں ہندوستان میں دوبارہ ایک نہایت ہی خوفناک شدھی کی تحریک شروع کی گئی ہے اور وہی ملکانے کا علاقہ اس کے لئے منتخب کیا گیا ہے اور اس دفعہ غالباً ہندوستان کے بعض انتہا پرست ہندوؤں کو جن میں آریہ بھی پیش پیش ہیں یہ شبہ ہے کہ وہ جماعت جو اس معاملے میں اسلام کا فعال دفاع کر سکتی تھی ، جو مسلسل بے خوف قربانیاں دے سکتی تھی، اس کی اکثریت تو یہاں سے ہجرت کر کے پاکستان جا چکی ہے اور پاکستان میں وہ خود ایسے مصائب میں مبتلا ہے کہ اسے اس بات کی ہوش ہی نہیں ہوسکتی کہ ہندوستان کی سرزمین میں آکر یہاں اس شدھی کی تحریک کے خلاف کسی جہاد کا آغاز کرے۔اور جہاں تک ہندوستان کی جماعتوں کا تعلق ہے وہ جانتے ہیں کہ اس زمانے کی نسبت جب یہ شدھی کی تحریک بائیس تنیس چوبیس کے سالوں میں آغاز پائی اور پھر انجام کو پہنچی۔اس زمانے میں ہندوستان میں جماعت کو جو طاقت حاصل تھی اب اس کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں ہے۔اس وجہ سے بھی ان کی حوصلہ افزائی ہوگئی۔