خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 558 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 558

خطبات طاہر جلد۵ 558 خطبه جمعه ۵ اراگست ۱۹۸۶ء اور اپنے مقصد کو چھوڑے نہیں لیکن صبر کے مضمون میں کچھ اور باتیں ایسی داخل ہوگئی ہیں جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اس کا پھل خود اپنے آپ کو قرار دیا اور وہی پیار کا مضمون میرے نزدیک اس میں داخل ہے۔اپنی آگ کو محبت الہی کی آگ میں تبدیل کرنا، اللہ کے پیار کی آگ بڑی قوت کے ساتھ دل میں بھڑک اٹھنا غموں کے وقت۔اس کے نتیجہ میں لازماً خدا کا اپنا آنا ضروری ہو جاتا ہے۔اگر غم محض مدد مانگنے کی ایک قوت بن جائیں تو اس کے نتیجہ میں فرشتوں کا آنا کافی ہے۔مدد کے لئے آئے ہیں ہم۔تمہاری مدد کریں گے فکر نہ کرو تمہارے غم بھی دور ہو جائیں گے تمہیں خوشخبریاں بھی دیتے ہیں لیکن اگر غموں کی آگ خالصہ اللہ کے پیار کی آگ میں بھڑک اٹھے تو اس کا جواب یہ ہے ہی نہیں کہ ہم تمہاری مددکریں گے یہاں بھی اور وہاں بھی تم فکر نہ کرو۔اس کا جواب یہ ہے کہ جس کی محبت میں تم اب جل رہے ہو وہ آگیا ہے تمہارے پاس اور وہ تمہارے ساتھ رہے گا۔اس لئے میں نے کہا تھا کہ صبر کے مضمون میں یہ آیت حرف آخر ہے۔آخری اور سب سے بلند تر مقصد بھی بیان ہوا اور بہترین پھل جو صبر کے نتیجہ میں انسان کومل سکتا ہے اس کا ذکر فرما دیا۔پس اس دور میں جس میں سے ہم گزر ہے ہیں یہ آیت ایک کافی آیت ثابت ہونی چاہئے۔ہر وہ بات جو اس دور سے تعلق رکھنے والی ہمیں سکھانے کے لائق ہے قرآن کریم کی یہ آیت وہ ہمیں سکھا رہی ہے۔اس لئے یہ وقت تو گزر جائے گا لیکن اگر اس وقت کے گذرنے کے باوجوداگر ہم نے اس آیت سے فائدہ نہ اٹھایا ہو تو بڑی بدقسمتی ہوگی۔وقت گذرے گا اور فتح کے ساتھ گزرے گا اس میں کوئی بھی شک نہیں، خدا کے وعدے لازماً پورے ہوں گے۔مگر اس آیت میں جو وعدہ ہے وہ اور ہے وہ یہ ہے کہ میں تمہارا بن جاؤں گا۔اس وعدہ کی تمنا کریں ، اس مقصد کے حصول کی طرف متوجہ ہو کر یہ وقت گزارنے کی کوشش کریں کہ اس ابتلاء میں سے جب ہم گزریں تو ان سب باتوں کا ماحصل آخری یہ ہو کہ خدا ہمارا ہو چکا ہو اور ہمارے ساتھ رہنے والا بن جائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: کچھ جنازہ غائب پڑھانے کے لئے درخواستیں آئی ہوئی ہیں۔پانچ ایسے جنازے ہیں