خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 557 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 557

خطبات طاہر جلد ۵ 557 خطبه جمعه ۵ اراگست ۱۹۸۶ء جتنے شعرا ہیں وہ غمگسار کی طلب کرتے ہیں اور یہ خیال کر لینا کہ اکیلا انسان صبر کرتا رہے یہ ایک محض فرضی بات ہے۔حقیقت یہ ہے کہ صبر ہوتا نہیں اگر انسان تنہا ہواور اکیلا ہو۔ضرور چاہتا ہے کسی کو جتنا زیادہ دکھ میں مبتلا ہو اور صبر کے ساتھ کسی دکھ پر قائم رہنا چاہے اتنا زیادہ وہ محتاج ہو جاتا ہے کسی ذریعہ کا کسی مونس کسی غم خوار کا۔تو خدا تعالیٰ نے اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں فرمایا۔فرمایا اِنَّ اللهَ مع الصبِرِينَ اگر تم ہم سے مدد مانگو گے اور عبادتوں کی طرف متوجہ ہو گے تو ہم یقین دلاتے ہیں اپنی معیت کا۔ہم تمہارے ساتھ ساتھ رہیں گے، تم تنہا نہیں پاؤ گے اپنے آپ کو اور خدا کی معیت میں جس آسانی سے دکھ کٹ سکتے ہیں اس آسانی سے کسی اور معیت میں دکھ کٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ویسے عقلاً بھی یہ بات درست ہے، یہ ظاہر بات ہے لیکن اس میں ایک بہت ہی پیار کا مضمون داخل ہو گیا ہے۔اِنَّ اللهَ مَعَ الصّبِرِینَ کا ایک اور مطلب ہے عموماً اس مطلب کی طرف توجہ جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کی مدد کرتا ہے ،صبر کرنے والے آخر کامیاب ہوں گے یہ درست ہے۔یہ مضمون لازماً اس آیت میں شامل ہے اور بظاہر اسی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔لیکن میرے نزدیک اس میں پیار کا مضمون داخل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، تمہیں کیا غم ہے، اکیلے تو وقت نہیں کاٹو گے۔اکیلے کاٹنے کے لئے کہا جائے تو پھر تمہارے لئے بہت مشکل ہے لیکن ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ہم ایسی حالت میں تمہارے ساتھ رہا کریں گے ،تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔یہ مضمون اس مضمون سے بلند ہے جو فرشتوں کی معیت کا مضمون ایک اور آیت میں بیان ہوا ہے۔اس میں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں پر فرشتے اترتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ (بقره: ۲۱۸) دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔لیکن اس کا تعلق استقامت سے رکھا گیا ہے۔جہاں صبر کے ساتھ خدا کی معیت کا وعدہ ہے اور ہمیشہ جہاں جہاں بھی قرآن کریم میں صبر کا مضمون آیا ہے وہاں خدا کی معیت کے معنی بھی اگر ہر جگہ نہیں تو بعض جگہ نمایاں طور پر یہ معنے بیان ہوئے ہیں ہر جگہ ان معانی کا مضمون داخل ہے۔اللہ تعالیٰ کا ساتھ اور صبر یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ مضامین ہیں۔اس سے میں سمجھتا ہوں کہ صبر کا پھل ہے زیادہ بلند محض استقامت کے پھل سے۔استقامت میں یہ بات داخل ہے کہ آدمی بے وفائی نہ کرے