خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 50 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 50

خطبات طاہر جلد۵ 50 خطبہ جمعہ ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء پاس ناگہانی طور پر آؤنگا۔یعنی جس گھڑی تیری مدد کی جائے گی اس گھڑی کا تجھے علم نہیں۔پس وہ احمدی جواندازے لگاتے رہتے ہیں ہر وقت کہ فلاں دن ،فلاں رات ، فلاں گھڑی اچانک یہ کام ہو جائیگا جب پہلے پتہ چل گیا کہ فلاں وقت فلاں گھڑی اچانک یہ کام ہونا ہے تو اچانک کیسے ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن سے وعدہ کیا گیا ہے اقتدار کا آپ کو خدا مخاطب کر کے فرماتا ہے۔یعنی جس گھڑی تیری مدد کی جائے گی۔یہ ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا ہے۔اُس گھڑی کا تجھے علم نہیں۔اور ان کو علم ہے آج کے اندازے لگانے والوں کو کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ تو پنجابی میں کہتے ہیں گھروں میں آواں تے سندیسے توں دیو ہیں۔یعنی گھر سے تو میں آرہا ہوں اور گھر کے پیغام تم مجھے پہنچا رہے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کس طرح آپ سند دیسے دے سکتے ہیں۔صاحب خانہ کے مہمان تو آپ ہیں، خدا ہے ہر کائنات کے خانے کا مالک اس گھر کے آنے والے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ خدا مجھے فرماتا ہے کہ تجھے اس گھڑی کا علم نہیں وہ کب اور کس طرح ظاہر ہو جائے گا اور بعض باہر سے آنے والے کہتے ہیں کہ ہاں ہمیں پتہ لگ گیا ہے کہ فلاں وقت کس طرح ظاہر ہو جائے گا۔آج کا دن بھی وہ دن ہے جس کے معنی خود انہوں نے بنائے ہیں یا خود پہنا رکھے ہیں۔آج جمعہ ہے اور دس تاریخ ہے مجھے خدا نے بتایا تھا جس خدا کے قبضہ میں میری جان ہے اُس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ گھلا گھلا واضح طور پر ایک چپکتے ہوئے نشان کے طور پر اُس نے مجھے بتایا تھا لیکن جیسا کہ میرے گزشتہ خطبات سے ظاہر ہے مجھ پر قطعاً یہ واضح نہیں ہے کہ کس رنگ میں وہ نشان پورے ہوں گے۔کچھ پورے ہوئے تو اندازہ ہوا کہ یہ بھی ایک طریق تھا اور یہ پتہ ہے کہ وہ بار بار کی جلوہ گری ہے کہ کئی رنگ میں پورے ہونگے لیکن جوں جوں جمعہ قریب آیا۔لوگوں نے مجھے لکھنا شروع کر دیا کہ اب یہ نشان اس طرح پورا ہونے والا ہے۔تمہیں کس طرح پتہ لگ گیا مجھے تو نہیں پتہ؟ لیکن یہ یقین ہے ایک ذرہ بھی تزلزل نہیں اس یقین میں کامل ہے کہ خدا کی طرف سے یہ خبر تھی اور وہ خدا ہی ہے جو اُسے پورا کر کے دکھائے گا اور جب بھی پورا کر کے دکھائے گا جماعت کے دل اطمینان اور شکر اور حمد کے ساتھ بھر دیگا اور کوئی شک کرنے والا اس مقام پر نہیں رہے گا کہ وہ شک کر سکے اور