خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 552
خطبات طاہر جلد۵ 552 خطبه جمعه ۵ ار اگست ۱۹۸۶ء بے اختیاری کا صبر ہو وہ بعض دفعہ مصیبتوں میں اضافہ کر دیتا ہے اور مصیبتوں کی یاد اس کے ساتھ پیوستہ ہو جاتی ہے اور بجائے اس کے کہ ایک دکھ آئے اور گذر جائے ایسے صبر کے نتیجہ میں وہ دکھ ایک مستقل زندگی کا حصہ بن جاتا ہے، ایک روگ بن جاتا ہے۔پس قرآن کریم نے صبر کا جو مفہوم بیان فرمایا ہے وہ اس عام مفہوم سے بالکل الگ کر کے بیان فرمایا اور صبر کے مضمون کو انتہائی بلند مقام تک پہنچا دیا ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جو عام دنیاوی مفہوم ہے اس میں صبر اور عمل کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔عام طور پر جن حالات میں دنیا والے صبر کرتے ہیں ان کو عمل کی کوئی راہ ہی نہیں دکھائی دیتی اور صبر بالعموم مایوسی کا پہلو رکھتا ہے۔قرآن کریم نے فرمایا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اپنے صبر کو ایک فعال قوت میں تبدیل کرتے رہو۔استعینوا صبر کے نتیجہ میں خدا سے دعا مانگو اور مدد چاہوا گر مایوسی ہو تو مدد چاہنے کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ہمیشہ تمہارے صبر کے ساتھ ایک امید کا پہلو زندہ رہنا چاہئے اور صبر کے نتیجہ میں خدا کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھاتے رہو اس کامل یقین کے ساتھ کہ کسی نہ کسی وقت اللہ تعالیٰ کی مدد آکر تمہاری مشکلات کو دور فرما دے گی۔اللہ سے استعانت کے مضمون نے مایوسی کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا اور انتہائی ناممکن حالات میں بھی امید کی ایک لو روشن کردی ، امید کی ایک کرن مومن کو دکھا دی کہ ایک نجات کا رستہ باقی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا رستہ ہے۔پس مصیبت خواہ کتنی گہری ہو اس کا گھیرا کتنا ہی کڑا کیوں نہ ہو مومن کا صبر ا سے ہمیشہ امید کی طرف متوجہ کرتارہتا ہے۔اور خدا تعالیٰ سے مدد مانگنے کے مضمون میں اس امید کو ایک زندہ فعال قوت میں تبدیل کر دیا ہے۔دوسرا معنی استَعِينُوا بِالصَّبْرِ یہ بھی ہے اور اسی مضمون کو آگے بڑھانے والا معنی ہے کہ جب خدا سے مدد مانگا کرو تو صبر کے ساتھ مددمانگا کرو۔چند دن مدد مانگ کے چھوڑ نہیں دینا ، دعا میں جلدی نہیں کرنی ، جلدی نتیجے نکلنے کی تمنار کھتے ہوئے دعائیں نہیں کرنی بلکہ دعا میں بھی صبر کے مضمون کو داخل کر دو۔اسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ خدا سے اس طرح مدد مانگو کہ ہمیشہ مانگتے ہی چلے جاؤ اور مدد مانگتے ہوئے کبھی بھی تجھکو اور مدد مانگنے کے طریق کو مستقل پکڑ کے بیٹھ رہو۔صبر کا معنی اس پہلو سے وفا کے ساتھ کسی چیز پر قائم ہو جاتا ہے۔تواسْتَعِينُوا بِالصَّبر کا مطلب ہے کہ کامل وفا کے ساتھ دعا پر لگے رہو اور کسی حالت میں بھی دعا نہیں چھوڑنی کسی حالت میں بھی یہ خیال نہیں کرنا کہ ہماری دعا