خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 551
خطبات طاہر جلد۵ 551 خطبه جمعه ۵ ار اگست ۱۹۸۶ء دعا کا صبر اور صلوٰۃ سے گہرا رشتہ صابر کی جزاء معیت الہی ہے ( خطبه جمعه فرموده ۱۵ اگست ۱۹۸۴ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی: ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِينَ اور پھر فرمایا: (البقرة : ۱۵۴) سورة البقرة کی یہ آیت میں نے جو تلاوت کی ہے صبر کے مضمون پر ایک حرف آخر کا مقام رکھتی ہے۔صبر کے جتنے پہلو ہیں اس کی حقیقت ، اس کا طریق، اس کا بہترین مصرف ،اس کے مقاصد اور کیا کچھ صبر تمہیں عطا کر سکتا ہے۔یہ ساری باتیں اس مختصر سی آیت میں بیان ہوگئی ہیں۔جہاں تک صبر کا عام مفہوم ہے یعنی غیر مذہبی عام دنیاوی تصور ، اس میں بیچارگی کے معنی نمایاں طور پر پائے جاتے ہیں اور بے اختیاری کے معنی نمایاں طور پر پائے جاتے ہیں۔ایسا غم اور ایسی مصیبت جو کسی کو مغلوب کرلے اور جن کے مقابلے کی کوئی انسان طاقت نہ پاتا ہو اور کوئی چارہ نہ پائے کہ کس طرح اس کے مصائب کے چنگل سے نکل سکے۔اس وقت جو کیفیت ہوتی ہے اسے دنیاوی مفہوم میں صبر کہتے ہیں۔ایسے صبر کا نتیجہ عموماً ایک اندرونی آگ ہوتا ہے جو رفتہ رفتہ انسان کو جلاتی رہتی ہے اور اس کے نقصانات تو ہیں، اس کے فوائد پہنچنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ایسا صبر جو