خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 548
خطبات طاہر جلد ۵ 548 خطبه جمعه ۸/ اگست ۱۹۸۶ء حقیقت کے روپ میں آجاتا ہے، ایک تصور حقیقت کے روپ میں آجاتا ہے۔یہ وہ کام ہے جو ہم نے اس سال غیر معمولی طور پر کرنا ہے اور اس سلسلہ میں ہمارے دوسرے بہت سے مسائل خود بخو دحل ہوتے چلے جائیں گے۔جب ہم سیرت پر زور دیں گے تو جہاں جہاں احمدی سیرت کے مضمون تیار کریں گے یا سیرت کے مضمون سنیں گے، خود بخود طبعی طور پر ان کے نفس اپنے حالات سے اس سیرت کا موازنہ بھی کرتے رہیں گے۔اس لئے تربیت کا اس سے بہتر اور کوئی پروگرام جماعت کے لئے ممکن نہیں ہے اور اس کے علاوہ رسول اکرم ﷺ سے بار بار محبت کے جوش اٹھنے کے نتیجہ میں جب سیرت کا مضمون سنتے ہیں تو محبت تو ہر جگہ ہوتی ہے اس میں ایک نیا ہیجان پیدا ہو جاتا ہے۔بعض اوقات تو ایسی ایسی بڑی لہریں اٹھتی ہیں کہ جو سارے وجود کو ڈھانپ لیتی ہیں۔اس وقت جو درود آپ کے منہ سے نکلیں گے اس کے نتیجہ میں اللہ اور اس کے فرشتے جو درود بھیجیں گے ساری جماعت پر ان کی غیر معمولی برکتیں ہمیں نصیب ہوں گی۔اس لئے قرآن کریم کی اشاعت کے ساتھ میں نے غور کے بعد اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق کے مطابق یہ فیصلہ کیا ہے کہ سیرت کے مضمون کو باندھ کر ساری دنیا میں اس کو پھیلایا جائے۔اس ضمن میں مجھے خیال آیا کہ قرآن کریم کی آیت کتنی کامل اور کتنی حیرت انگیز وسعتیں رکھتی ہے کہ یہ سارے نقشے جو آج ہم بھینچ رہے ہیں یہ سارے پہلے ہی حضور اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرما دیئے تھے، اس کی تصویریں قرآن کریم نے پہلے سے کھینچ رکھی ہیں اور یہ موازنہ مکمل ہے۔آنحضرت ﷺ کی محبت میں ان کا ادعا آج یہ ہے کہ اس محبت کے نتیجہ میں ان لوگوں کو قتل کرو ان کی جانیں لے لو اور ہمارا ادعا یہ ہے کہ اس محبت کے نتیجہ میں لوگوں کو زندہ کرو اور آنحضرت مے کی حیات بخش سیرت کو دنیا میں پھیلا دو۔تو دیکھیں کتنی تفصیل کے ساتھ ہمارا عمل حسن ایک حقیقی عمل حسن ہے اور کس تفصیل کے ساتھ ان کا بظاہر عمل حسن ایک عمل قبیح ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کو رد کرے گا اور اس کے نیک نتائج کبھی ظاہر نہیں ہو سکتے۔کڑوی ہیل کو کڑوے پھل ہی لگتے ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں نہ صرف یہ خبر دی یہ مضمون بیان فرما دیا تفصیل سے کہ کس طرح تم یقین کے مقام پر کھڑے ہو سکتے ہو کہ تمہارے اعمال درست ہیں اور حسین ہیں اور خدا کی نظر میں حسین ہیں اور نتیجہ خیز ثابت ہوں گے وہاں یہ بھی بتا دیا کہ ان نیک اعمال کے نتیجہ میں وہ لوگ جلیں