خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 534 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 534

خطبات طاہر جلد ۵ 534 خطبہ جمعہ یکم اگست ۱۹۸۶ء ایک بھی ایسا نہیں جو ہماری ذات سے تعلق رکھتا ہو۔تمام خطرات کا تعلق حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کی حفاظت کی کوشش سے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کی غرض و غایت ہی یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کو از سرنو زندہ کریں۔وہ تمام حصے جوز وائد بعد میں داخل ہوئے ان کو نکال دیں اور جو کمیاں کر دی گئی تھیں اس پیغام میں، اندھیری صدیوں کے دوران ان کو دوبارہ بحال کریں اور پوری شان کے ساتھ ، اس کامل حسن کے ساتھ جس حسن کے ساتھ اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل فرمایا گیا، اس کے نوک پلک درست کر کے اسی شکل میں دوبارہ دنیا کے سامنے پیش کریں ، اس کا نام مجددیت ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایک ہزار سال کے مجددیت کا کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سونپا گیا۔بہت بڑا کام تھا کیونکہ چودھویں صدی سے پہلے تقریباً ہر صدی میں کچھ نہ کچھ نقائص ایسے رہے جن کو مجددین نے دور تو کیا مگر کچھ باقی رہ گئے اور وہ نقائص جمع ہوتے رہے۔چنانچہ یہ ایسی شکل نہیں ہے کہ ہر صدی کے مجدد نے پچھلے سارے نقائص ، ساری دنیا کے نقائص دور کر دیئے اور از سرنو بالکل اسی طرح اسلام کو شروع کر دیا یہ غلط تصویر ہے۔حقیقی تصویر اگر آپ تاریخ پر نظر ڈال کے دیکھیں تو یہ ہے کہ کچھ نہ کچھ نقائص مجدد کی چھانی سے نکلے ہیں اور اگلی صدی میں بھی چلے گئے ہیں اور پھر کچھ اور جمع ہوگئے اور پھر وہ اس سے اگلی صدی میں منتقل ہو گئے۔یہاں تک کہ پہلی تین صدیوں کی جو فضیلت تھی وہ جاتی رہی اور آخری جو صدیاں شروع ہوئیں ان کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات سے مثال دے دی۔اگر سو فیصدی اسلام کا نور قائم رہتا بغیر کسی نقص کے اور بغیر کسی زیادتی کے تو ممکن ہی نہیں تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے کہ میرے بعد پہلی نسل پھر دوسری اور پھر تیسری نسل یہاں تک تو روشنی ہے اور اس کے بعد اندھیرے کا زمانہ شروع ہو جائے گا یہ ممکن ہی نہیں تھا۔پس جب میں کہتا ہوں کہ مجددین کے آنے کے باوجود اگر چہ روشنی کی حفاظت ضرور ہوئی مگر تمام روشنی کی نہیں ہوئی۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپر دجو کام ہوا وہ صرف ایک صدی کے دکھ دور کرنے کا کام نہیں تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لمبے زمانے تک اسلام پر جتنے بھی دکھ نازل ہوئے ان کے مجموعی طور پر ان کی شفا کا کام حضرت مسیح موعود