خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 532
خطبات طاہر جلد۵ 532 خطبه جمعه یکم اگست ۱۹۸۶ء اس کی بنیاد میں قائم کیں، ویسے ہی مستقبل میں اس کی حفاظت کے لئے خدا تعالیٰ آئندہ بھی معقبات بھیجے گا۔بہر حال یہ ایک بہت ہی وسیع اورتفصیلی مضمون ہے۔میں صرف ایک خاص حصے سے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں اور ایک خاص حصے پر آپ کی توجہ مرکوز کروانی چاہتا ہوں۔یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا لَهُ مُعَقِّبْتُ مِّنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ وہاں ایک تو عام مضمون ہے یعنی ہر وہ ذات جو زندہ ہے وہ یونہی از خود زندہ نہیں ہے بلکہ قیوم خدا کی طرف سے اس کی حفاظت کے ایسے گہرے انتظام ہیں جو اس کی پیدائش سے پہلے سے چلے آرہے ہیں اور جو اس کے مرنے کے بعد تک بھی جاری رہیں گے۔اس کے پیچھے بھی اس کی حفاظت ہے اور اس کے آگے بھی اس کی حفاظت ہے اور اس کی زندگی کے دوران بھی آگے اور پیچھے اللہ تعالیٰ کی حفاظت کرنے والے اس کی حفاظت کا انتظام کر رہے ہیں ورنہ زندگی کا از خود قائم رہنا ممکن ہی نہیں۔لکھوکھا ایسے محرکات موجود ہیں لکھوکھا ایسے اسباب موجود ہیں جن کو اگر زندگی پر غلبہ پانے کی اجازت دے دی جائے تو ان میں سے ایک بھی زندگی کو فنا کرنے کے لئے کافی اور تفصیلی مضمون ہے صرف اشارہ میں اس کا ذکر کر کے اب ہے۔بہر حال یہ ایک بہت ہی وسیع دوسرے حصے کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرواتا ہوں اور وہ ہے روحانی حفاظت۔یہاں خصوصیت کے ساتھ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کا پیغام بھی مراد ہے۔لَهُ مُعَقِّبت میں سب سے زیادہ اہل حفاظت کا حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرار دیا اور فرمایا گیا کہ آپ کے پہلے سے ہی ، آپ کی نبوت کے آغاز سے بھی پہلے سے خدا تعالیٰ نے آپ کے مضمون کی جس مضمون کو آپ نے دنیا میں پیش کرنا تھا اس کی حفاظت کا پہلے سے انتظام کر رکھا تھا اور جتنے انبیاء آئے ہیں وہ اسی مضمون کی حفاظت کرتے چلے آئے تھے اور اس مضمون کو حفاظت کے ساتھ آگے بڑھاتے چلے گئے۔جس طرح ریلے ریس ہوتی ہے اس طرح ایک نبی سے دوسرے نبی اور دوسرے نبی سے تیسرے نبی تک مضمون منتقل ہوتے رہے اور بالآخر مقصد یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو امین ہیں۔جن کے متعلق خدا نے فرمایا کہ آپ امانت کے اہل تھے آپ ہی اکیلے تھے جو امانت کا حق ادا کرنے کے لئے آگے بڑھنے کے اہل تھے چنانچہ آپ آگے بڑھے۔ان تک با حفاظت یہ دین کی امانت منتقلی کی گئی جس کے پیچھے ایک بہت ہی لمبا گہر ا حفاظت کا