خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 528 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 528

خطبات طاہر جلد ۵ 528 خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۸۶ء سے ایسی توقعات رکھیں گویا میرا کہنا ہر صورت میں خدا کا کہنا بن جاتا ہے۔یہ جو دو واقعات میں نے لکھے ہیں۔ایسے بہت سے اور واقعات بھی ہیں لیکن ہمیشہ یہ واقعات تب درست ثابت ہوتے ہیں جب ان پر میرا اختیار نہ ہو۔بلا ارادہ بغیر تکلف کے بعض دفعہ دل کی کیفیت ایسی ہوتی ہے کہ بے اختیار منہ سے ایک کلمہ نکلتا ہے اور وہ کلمہ کہنے کے بعد دل محسوس کرتا ہے کہ اس کے پیچھے خدائی قوت تھی اور دل اس یقین سے بھر جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ضرور پورا فرمائے گا۔لیکن ان واقعات کو سن کر بعض دفعہ لوگ یہ لکھتے ہیں کہ آپ ہمارے بیٹے کے لئے ایک نام تجویز کریں اور ایک ہی نام تجویز کریں یا ہم بیٹی چاہتے ہیں اور آپ بیٹی تجویز کریں۔خدا کی تقدیر وہ تو نہیں بنا سکتے نہ میں بناسکتا ہوں اور اگر میں ایسا کروں تو میں تکبر کا مرتکب ثابت ہوں گا۔اور تکبر سے بڑا اور مکروہ گناہ اور کوئی نہیں۔ہرگز تکلف کے ساتھ کسی انسان سے یہ توقع رکھنا ، خواہ آپ کی نظر میں اس کا کوئی مقام ہو کہ وہ بالا رادہ خدا کے اوپر ایک بات کہے اور پھر یہ اعلان کر دے کہ یہ بات ضرور پوری ہوگی، یہ عبدیت کا نہیں بلکہ خدائی کا دعویٰ کرنے کے مترادف ہے۔میں تو یہ جانتا ہوں کہ ایسی بھی دعائیں ہوتی ہیں جو بڑی بے قراری سے کرتا ہوں اور بعض دفعہ قبول نہیں ہوتیں۔اور ایسی بھی دعائیں ہوتی ہیں جو بے اختیاری سے دل سے نکلتی ہیں، کوئی ان میں تکلف نہیں پایا جاتا ، کوئی زور نہیں لگایا جا تا لیکن دل سے اٹھتی ہوئی بھی محسوس ہوتی ہیں کہ لازما عرش الہی تک جا پہنچیں گی اور لازما مقبول ہوں گی۔تو یہ کیفیتیں بندے اور خدا کے تعلقات کی کیفیتیں ہیں۔صرف مجھ میں یہ کیفیتیں دیکھنے کے خواہاں نہ ہوں۔اپنی ذات میں یہ کیفیات دیکھنے کی تمنا کریں۔احمدیت اس طرف آپ کو بلا رہی ہے۔احمدیت آپ کو پیر پرستی کی طرف نہیں بلکہ خدا کا دوست بنے کی طرف بلا رہی ہے۔آج ایک شخص سے ساری دنیا کی تقدیر کو وابستہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ہاں خلفاء الارض ہیں جن کے ساتھ خدا تعالیٰ کی رحمت کو وابستہ کیا جاسکتا ہے۔پس آپ سب خلفاء الارض ہیں یعنی خدا کی نظر میں آپ کو خلفاء الا رض بننا پڑے گا۔اگر آپ اپنے اندر وہ صفات حسنہ پیدا نہیں کریں گے جو آپ کو خدا کی نگاہ میں خلفاء الارض بنادیں اس وقت تک دنیا کے اندر عظیم الشان روحانی انقلاب پیدا کرنے کے خواب محض ایک احمقانہ بڑ کی حیثیت رکھتے ہیں اس سے زیادہ کوئی نہیں۔