خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 521
خطبات طاہر جلد۵ 521 خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۸۶ء منصب خلافت اور قبولیت دعا پیر پرست نہیں بلکہ خدا کے دوست بنیں ( خطبه جمعه فرموده ۲۵ / جولائی ۱۹۸۶ء بمقام اسلام آباد ٹلفورڈ) تشهد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنی کی تلاوت کی: أَمَّنْ يُجِيْبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءِ الْأَرْضِ وَ إِلَهُ مَّعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ (النمل:۶۳) اور پھر فرمایا: سورہ نمل کی جس آیت کی میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ سوالیہ رنگ میں اس حقیقت کا اظہار فرما رہا ہے کہ کون ہے جو خدا کے سوا بھی تمہاری بے قرار دعاؤں کو یعنی تم میں سے بے قراروں کی دعاؤں کو سنتا ہے جو مجبور اور لاچار ہو چکے ہوں اور پھر ان سے برائی اور تکلیف کو دور فرما دیتا ہے؟ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ اور وہ تمہیں زمین میں خلفاء بنانے والا ہے، تم زمین کے وارث بننے والے ہو۔عاله مع الله کیا خدا کے سوا بھی کوئی ہے جو یہ سب کچھ کر سکے۔قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ تم تو ادنی سا بھی تدبر نہیں کرتے ، کوئی نصیحت نہیں پکڑتے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف مضطر کے ساتھ دعا کے تعلق کو وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا بلکہ ساتھ ہی مسلمانوں کو ایک عظیم الشان خوشخبری مستقبل کے متعلق دی کہ بالآخر زمین کے