خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 518 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 518

خطبات طاہر جلد۵ 518 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جولائی ۱۹۸۶ء کے قریب لوگوں نے عیسائی مذہب اختیار کرلیا۔اور چھ کروڑ اور کسی قدر زیادہ اسلام کے مخالف کتابیں تالیف ہوئیں اور بڑے بڑے شریف خاندانوں کے لوگ اپنے پاک مذہب کو کھو بیٹھے۔یہاں تک کہ وہ جو آل رسول کہلاتے تھے وہ عیسائیت کا جامہ پہن کر دشمن رسول بن گئے اور اس قدر بد گوئی اور اہانت اور دشنام دہی کی کتابیں نبی اکرم ﷺ کے حق میں چھاپی گئیں اور شائع کی گئیں کہ جن کے سننے سے بدن پر لرزہ پڑتا اور دل رو رو کر یہ گواہی دیتا ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے بچوں کو ہماری آنکھوں کے سامنے قتل کرتے اور ہمارے جانی اور دلی عزیزوں کو جو دنیا کے عزیز ہیں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے اور ہمیں بڑی ذلت سے جان سے مارتے اور ہمارے تمام اموال پر قبضہ کر لیتے تو واللہ ثم واللہ ہمیں رنج نہ ہوتا اور اس قدر کبھی دل نہ دکھتا جوان گالیوں اور اس تو ہین سے جو ہمارے رسول کریم ع کی گئی دکھا ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵۱:۵-۵۲) تو محبت تو جبر کا انتظار نہیں کیا کرتی۔محبت کے نتیجہ میں تو انسان سب سے پہلے محبت کی چھری سے اپنے آپ کو ذبح کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں پھر وہ پاک قو تیں جوش میں آتی ہیں جن کے نتیجہ میں یہ محبت پاکیزہ راہیں اختیار کرتی ہے اور نیک تبدیلیوں پر منتج ہوتی ہے۔یہ کوئی دنیا کی محبت تو نہیں ہے کہ جو دل میں ولولہ اٹھائے اور جوش دکھائے اور اس کے بعد ختم ہو جائے۔پاک وجودوں کی محبت پاک نتائج پیدا کیا کرتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت چونکہ بچی تھی اس لئے اس محبت کے نتیجہ میں کثرت کے ساتھ آپ نے آنحضرت علی اور آپ کے پاک دین کا دفاع کیا۔کثرت کے ساتھ کتابیں لکھیں اور سب دشمنوں کو ذلیل اور رسوا کر دیا۔کثرت کے ساتھ آنحضرت ﷺ پر درود بھیجے اور درود بھیجنے والے پیدا کئے۔تمام دنیا میں تبلیغ کا جال بچھا دیا اور عیسائی ہونے والے مسلمانوں کا انتقام اس طرح لیا کہ کلیسیاؤں کے گھروں میں اذانیں دلواد میں اور عیسائیوں کو جو کبھی رسول اکرم ﷺ کو گالیاں دیتے تھے آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے والا اور آپ کی محبت میں آنسو عملے بہانے والا بنادیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔یہ محبت کا ہی فیض تھا کہ آپ کو اس مقام پر مامور فرمایا گیا جس مقام پر خدا نے آپ کو مامور فرمانے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الله