خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 517
خطبات طاہر جلد۵ 517 خطبہ جمعہ ۱۸؍جولائی ۱۹۸۶ء ہلاک کرتا ہے اور اس سارے عرصہ میں خود غم کا شکار رہتا ہے۔یہ ہے سچی محبت اور یہ ہے سچی غیرت اور یہ ہے سچی محبت کا اظہار اور سچی غیرت کا اظہار۔یہ تو کر کے دکھائے کوئی ؟ مگر کسی میں ہو تو کر کے دکھائے۔یہ ہے اسلام کیسی حسین تعلیم ہے کہ انسان کو انسان پر محبت کے دعوی کے نتیجہ میں یا غیرت کے دعوی کے نتیجہ میں جبر کا اختیار نہیں دیا گیا مگر چونکہ خدا خود ضامن بن گیا ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فراست کو دیکھیں کہ اس خدا کی ضمانت کو اکسایا ہے۔فرمایا اے اللہ ! میرے بس میں تو کچھ نہیں تو نے چھوڑا، اگر میرے بس میں ہوتا تو میں ہرگز پرواہ نہ کرتا جو کچھ میری جان پر گزر جاتی میں اس کا انتقام لیتا مگر تیری اعلیٰ اور پاک تعلیم نے مجھ سے یہ قدرت چھین لی۔ہاں میں یہ ضرور دیکھتا ہوں کہ تو عہد کرتا ہے اور بار بار اس عہد کود ہراتا ہے کہ محمد مصطفی ﷺ کے دشمنوں اور آپ کے گستاخوں کو میں ذلیل کروں گا اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، میں اس تیرے عہد کی پاک یاد تجھے دلاتا ہوں اور دیکھ میری جان ہلاک ہورہی ہے اس غم میں کہ کیوں تو اس عہد کو پورا نہیں کر رہا۔اس قدر دردناک دعائیں کی ہیں یہاں تک کہ خدا کی غیرت وہ چنجر بن کر اتری جس نے لیکھرام کا پیٹ پھاڑ دیا اور گوسالہ کی طرح اس کے منہ سے وہ آوازیں نکلیں جواس کی ذلت اور رسوائی کو بڑھانے والی تھیں۔اس پاک تعلیم پر یہ عمل کیوں نہیں کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آنحضرت ﷺ سے محبت اور عشق کا تو یہ حال تھا کہ آپ ایک جگہ فرماتے ہیں۔آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۱ ۵۲ پر یہ عبارت ہے۔اس زمانہ میں جو کچھ دین اسلام اور رسول کریم ﷺ کی توہین کی گئی اور جس قدر شریعت ربانی پر حملے ہوئے اور جس طور سے ارتداد اور الحاد کا دروازہ کھلا۔کیا اس کی نظیر کسی دوسرے زمانہ میں بھی مل سکتی ہے؟“ اس زمانہ میں چونکہ انگریز کی غالب حکومت تھی اس لئے دوسرے مسلمان علماء کوتو نہ یہ تو فیق ملی کہ ارتداد کا کوئی قانون پاس کروا سکیں نہ غیرت رسول ان کی اس طرح جوش میں آئی کہ ان کا مقابلہ کرتے۔وہ ایک شخص جس کو نعوذ باللہ من ذلک آج آنحضرت ﷺ کا گستاخ قرار دیا جارہا ہے اس کے دل کی یہ آواز ہے، سنیں اور غور سے سنیں ، آپ فرماتے ہیں: کیا یہ سچ نہیں کہ تھوڑے ہی عرصہ میں اس ملک ہند میں ایک لاکھ