خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 516
خطبات طاہر جلد۵ 516 خطبہ جمعہ ۱۸؍جولائی ۱۹۸۶ء دوڑے گا اور نہ یہ دیکھے گا کہ جو گستاخی کرنے والا ہے وہ طاقتور ہے یا وہ کمزور ہے، میرے ملک کا باشندہ ہے یا کسی اور ملک کا باشندہ ہے۔اگر اس کی جبلت ایسی ہے اس کی سرشت ایسی ہے کہ وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتا تو اس کے عواقب سے بے نیاز ہوکر ایک قدم اٹھالے گا۔اب بھی انگلستان میں بارہا ایسے واقعات ہوتے ہیں، ایسی فلمیں بنائی جاتی ہیں ، ایسے ریڈیو پروگرام ہوتے ہیں، ایسی کتابیں چھپتی ہیں جن میں حضرت محمد مصطفی علیہ کی شدید گستاخی کی جاتی ہے اور اس گستاخی پر فخر کیا جاتا ہے کوئی معذرت نہیں ہوتی اور وہ سارے غیرت مند جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم گستاخی برداشت نہیں کر سکتے اور اس گستاخی کی سزا موت ہے اپنے اپنے وطنوں میں آرام سے بیٹھے رہتے ہیں۔ان کے ہمنوا یہاں بھی موجود ہوتے ہیں اور کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔اس کا مطلب ہے کہ یہ غیرت کا دعویٰ جھوٹا ہے۔غیرت کا دعوی ہو اور ساتھ یہ بھی شرط ہو کہ غیرت تب دکھائیں گے کہ دوسرا شخص انتہائی کمزور ہو اور چڑیا کے بچہ کی طرح ہمارے پنجہ میں آجائے۔اس کی گردن تو ہم مسلیں گے اپنی غیرت کے اظہار کے طور پر۔اگر ہم خود کسی کے پنجہ میں چڑیا کے بچہ کی طرح ہوں گے تو ہم ہرگز غیرت نہیں دکھا ئیں گے، ہم چوں بھی نہیں کریں گے اس وقت۔یہ کون سی غیرت ہے، یہ کون سی محبت ہے؟ دوسرے غیرت کا سچا تقاضہ تو خود قربانی دینا ہے نہ کہ کسی کو قتل کرنا۔محبت کے نتیجہ میں انسان کا دل کہتا ہے اور دردمند ہوتا ہے۔وہ دردمندی نہ ہو تو محبت کا دعویٰ ہی جھوٹا ہوتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی عمل اللہ کی محبت اس کسوٹی پر اس چودہ سوسال میں جس شان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پورے اترے ہیں اس کی کوئی نظیر آپ کو نظر نہیں آئے گی۔ادنی سی بھی گستاخی آنحضرت ﷺ کی کسی سے سرزد ہوتی تھی تو آپ کا دل کٹ جاتا تھا، شدید دکھ محسوس کرتے تھے۔جتنے آپ نے غیروں سے مقابلے کئے ہیں ان میں بنیادی وجہ محبت محمد مصطفی اس تھی۔امریکہ بیٹھے اتنی دور ڈوئی نے گستاخی کی اور یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بے قرار اور بے چین ہو گئے اور اس کو مقابلے کا چیلنج دیا اور صرف چیلنج ہی نہیں دیا بلکہ راتوں کو اٹھ کر خدا کے حضور روئے اور گڑ گڑائے اور نہیں چین پایا جب تک کہ خدا کی غیرت کی چھری نے ڈوئی کو ذلیل ورسوا نہیں کر دیا۔یہ ہے محبت۔لیکھرام نے گستاخی کی، دیکھیں خدا کا یہ شیر کس طرح للکارتا ہوا اس پر ٹوٹ پڑتا ہے اور دعائیں کرتا ہے، اپنے خنجر سے نہیں، اپنی غیرت کو خدا کی غیرت کے خنجر میں تبدیل کر کے اس کو