خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 511
خطبات طاہر جلد ۵ 511 خطبہ جمعہ ۱۸؍جولائی ۱۹۸۶ء بیان کیا جاتا ہے کہ یہ بات عبداللہ نے کہی لیکن قرآن کریم یہاں جمع کا صیغہ استعمال فرمارہا ہے اور یہ بات بھلا دی جاتی ہے۔فرمایا: يَقُولُونَ لَبِنْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ نہیں فرمایا يَقُول بلکہ فرمایا وہ لوگ کہہ رہے ہیں یعنی ایک سے زیادہ آدمی یہ کہنے لگ گئے تھے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ ایک پورا جتھا تھا۔ابتداء تو عبداللہ ہی نے یہ بات کہی مگر اس بات میں اتنی طاقت پیدا ہوگئی تھی نعوذ باللہ من ذلک کہ وہ بات عام لوگوں میں کہی جانے لگی تھی۔منافقین کا ایک گروہ تھا جو اس بات کو لے اڑے اور یہ کہنے لگ گئے اور کھلم کھلا گستاخی کا کلمہ آنحضرت علیہ کے متعلق استعمال کرنے لگے کہ جب ہم مدینہ لوٹیں گے تو جو ہم میں سے سب سے معزز ہے وہ نعوذ باللہ من ذلک آنحضرت ﷺ کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے، ہم میں سے جو سب سے ذلیل ہے اس کو مدینہ سے نکال دے گا۔یہ بات سن کر صحابہ میں شدید رد عمل پیدا ہوا اور بعض صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے یہ بھی پیشکش کی کہ ہمیں اجازت دی جائے کہ ہم اسے قتل کر دیں۔یہ تو خیر ایک لمبا واقعہ ہے اس کا دلچسپ حصہ یہ ہے کہ عبداللہ کا بیٹا اپنے باپ کی طرح منافق نہیں تھا۔آنحضرت ﷺ سے غیر معمولی محبت رکھتا تھا اور اخلاص رکھتا تھا۔اس نے جب یہ باتیں سنیں کہ اتنا بڑا جرم میرے باپ سے سرزد ہوا ہے ہو سکتا ہے کہ آنحضرت مے اس کے قتل کا حکم دے دیں تو وہ خود رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میرے باپ سے ایک ایسی بڑی بد بختی ہوئی ہے کہ اس کے نتیجہ میں بعید نہیں ہے کہ آپ اس کے قتل کا حکم صادر فرما دیں۔یہ درست ہوگا ، اس فیصلہ پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ، میری صرف یہ خواہش ہے کہ مجھے حکم دیں کہ میں اپنے باپ کا سرا تا ر کر آپ کے قدموں میں لا کے رکھ دوں۔ایسی غیرت ایسی جوش میں آئی تھی اس کے ایمان کی، کہ ایسا عظیم اس نے اخلاص کا نمونہ دکھلایا۔مگر آنحضرت ﷺ نے اس کے جواب میں بھی صبر کی تلقین فرمائی ، اس کے جرم سے اعراض فرمایا اور فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ لوگ یہ کہیں کہ محمد ایسا نبی تھا کہ اپنے ساتھیوں کو قتل کرواتا رہتا تھا۔عجیب ہے کہ جس کے متعلق خدا بھی گواہی دیتا ہے کہ وہ منافق ہے اور ذلیل ترین انسان ہے۔جس کے منافقوں کا سردار ہونے کے بارے میں بھی کوئی شک نہیں ہے، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ متنبہ فرماتا ہے کہ اگر تو اس کے بارہ میں ستر دفعہ بھی استغفار کرے گا تب بھی میں نہیں سنوں گا۔ایسے شخص کے متعلق آنحضرت ﷺ کا دل اتنا نرم اور اتنا گداز ہے کہ شدید ترین گستاخی کا مرتکب