خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 510 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 510

خطبات طاہر جلد۵ 510 خطبہ جمعہ ۱۸؍جولائی ۱۹۸۶ء لَيُخْرِجَ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلُّ تو مدینہ سے سب سے زیادہ معزز انسان سب سے زیادہ ذلیل انسان کو نکال دے گا اور یہ بھی قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت ہے کہ یہاں نام نہیں لیا بلکہ اس الزام کو بغیر واضح کئے اسی طرح پیش فرما دیا۔اس میں حکمت کیا تھی۔اس حکمت کے متعلق واقعہ بھی آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں فرمایا وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ۔اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ غزوہ بنی مصطلق کے بعد مدینہ واپس آتے ہوئے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا ہوا تھا وہاں حضرت عمر کے ایک غلام کی انصار کے حلیف قبیلہ کے ایک شخص سے تو تو میں میں ہوگئی۔پانی پر عربوں کے جھگڑے چل پڑا کرتے تھے ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر۔وہ چونکہ انصار کے حلیف قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا اس نے عرب دستور کے مطابق دہائی دی کہ اے انصار میں دہائی دیتا ہوں کہ تمہارے حلیف قبیلے کی بے عزتی ایک ایسے شخص نے کی ہے جو ہمارا حلیف نہیں ہے یعنی مکہ کا رہنے والا ہے۔وہ تو مسلمان نہیں تھا۔اس نے تو پرانے عرب طریق کے مطابق اس غیرت کو اکسایا جوعر بوں میں معروف تھی اور جس کے نتیجہ میں بڑی تیزی کے ساتھ عرب قبائل مشتعل ہو جایا کرتے تھے۔چنانچہ وہی نتیجہ نکلا۔انصار بڑی تیزی سے اس آواز کو سن کر دوڑتے ہوئے اس پانی پلانے کی جگہ پر اکٹھے ہو گئے اور جب مہاجرین کو پتہ چلا کہ اس طرح انصار اپنے حلیف قبیلہ کی مدد کے لئے پہنچے ہیں تو بطور مسلمان کے نہیں بطور مہاجرین کے وہ حضرت عمرؓ کے غلام کے گردا کٹھے ہونا شروع ہو گئے اور قریب تھا کہ شدید کشت و خون ہو جائے۔اس وقت بعض صاحب فہم، صاحب ادراک اعلی درجہ کے مومنین نے ہوش سے کام لیتے ہوئے لوگوں کو سمجھایا کہ تم جاہلیت کی باتوں کی طرف لوٹ رہے ہو۔اسلام اس قسم کی تعلیم نہیں دیتا۔چنانچہ انصار اور مہاجرین کی یہ لڑائی جس کے شدید احتمال تھا اس طرح ٹل گئی۔لیکن اس واقعہ کا آنحضرت ﷺ کی طبیعت پر بھی بہت اثر پڑا اور منافقین نے بھی اس سے استفادہ کی کوشش کی۔چنانچہ عبداللہ بن ابی بن سلول جو منافقوں کا سردار تھا وہ بھی اس غزوہ میں اپنے ایک ٹولے کے ساتھ شامل تھا۔اس کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا اور اس نے یہ باتیں شروع کر دیں کہ دیکھو یہ نتیجہ نکلا ہے غیروں کو پناہ دینے کا۔ہمارے پرانے دوستوں سے ہمیں الگ کر دیا اور پھر باہر سے آکر ہمارے دوستوں کو ذلیل کیا جارہا ہے گویا ہمیں ذلیل کیا جارہا ہے۔عام طور پر یہ