خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 501 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 501

خطبات طاہر جلد۵ 501 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جولائی ۱۹۸۶ء یا نہیں ، دعوے بچے تھے یا جھوٹے تھے اور ان کے نتیجہ میں حسین اعمال پیدا ہوئے یا بد اعمال نے جنم لیا اس فیصلہ کا دن قیامت کا دن مقررفرمایا گیا اور اس فیصلہ کا اختیار اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لیا۔لیکن جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے وہ بالکل واضح ہے اور حیرت انگیز تعلیم ہے کہ سب سے پہلے اللہ کی عزت اور احترام کے قیام کے لئے یہ تعلیم دی گئی کہ ان جھوٹے خداؤں کو بھی گالیاں نہ دو جن کا یا تو وجود کوئی نہیں یا وہ خواہ مخواہ خدا کی خدائی پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور قابل نفرت وجود ہیں۔دونوں صورتوں میں خواہ وہ فرضی خدا ہوں یا دنیا کے کیڑے مکوڑے جنہیں خدا بنا دیا گیا ہو دونوں صورتوں میں اگر گالیاں کھانے کا حق ہے تو ان کا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کو بھی گالیاں نہیں دینی اور یہ گالیاں نہ دینے کی وجہ اللہ کی محبت بیان فرمائی۔کیسا گہرا فلسفہ ہے، کیسی گہری حکمت ہے جو محبت کے پس منظر میں کار فرما ہے اور محبت کی سچائی کا مظہر بن جاتی ہے۔اگر کسی کو اللہ سے محبت ہے تو اس کی محبت کی خاطر غیر اللہ کو بھی گالیاں نہ دے کیونکہ اگر غیر اللہ کو گالیاں دے گا تو اشتعال پیدا ہوگا اور غیر اللہ اس کے بدلے میں اس کے پیارے، اس کے محبوب آقا کو گالیاں دینے لگے گا۔کیسی عجیب تعلیم ہے کہ اللہ کی ناموس کی حفاظت غیروں کی ناموس کی حفاظت کے ذریعہ کرائی جارہی ہے۔اس سے زیادہ شاندار، اس سے زیادہ عالمگیر امن کی متحمل تعلیم کا تصور ہی ممکن نہیں اور جس چیز کو اولیت ہے اسے اولیت دی جا رہی ہے۔رسول کی عزت تو خدا سے بنتی ہے۔رسول کا وجود تو خدا کی محبت کے نتیجہ میں متشکل ہوتا ہے۔اگر خدا کی محبت نہ ہو اور خدا کی عزت اور خدا کا احترام نہ ہوتو رسالت کا کوئی وجود نہیں ہے۔پس قرآن کریم نے جہاں ناموس کا ذکر فرمایا اور اس کی خاطر دل آزاری سے روکا وہاں اللہ کی ذات کو پکڑا جو ہر چیز کی بنیاد ہے جو ہر روح کا سر چشمہ ہے اور ہر سچائی اس سے پھوٹتی ہے ،سب عزتیں اس سے پیدا ہوتی ہیں اور اس کے سوا کوئی بھی حقیقت نہیں۔پس یہ قانون مجھے عجیب لگا کہ ناموس رسول کی باتیں تو ہو رہی ہیں مگر وہ رسول جس کا سارا وجود اللہ کی ناموس کے قیام کی خاطر تھا جس کی ساری محبتیں اللہ کی خاطر تھیں اس رسول کے محبوب کا کوئی ذکر ہی نہیں۔اس آقا و مولیٰ واحد خدا کی عزت و احترام کے لئے کوئی قانون نہیں اور پھر اس آیت سے یہ حکمت بھی نہ سیکھی کہ اگر قرآنی تعلیم کی روشنی میں اور قرآنی اصول کی روشنی میں تم حقیقتاً حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت رکھتے ہوئے آپ کے احترام کا قیام چاہتے ہو تو اس طرح بات