خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 500
خطبات طاہر جلد۵ 500 خطبہ جمعہ ۱۸؍جولائی ۱۹۸۶ء اختیار کرتا ہے۔اس پہلو سے جب ہم انسانی اعمال کا جائزہ لیتے ہیں تو بسا اوقات ایسا بھی دکھائی دیتا ہے کہ بہت بڑے بڑے نیک دعاوی نیک اعمال پر منتج ہونے کی بجائے ایسے اعمال پر منتج ہو جاتے ہیں جو جنت کی بجائے جہنم کی طرف لے جانے والے ہوتے ہیں۔اس لئے دعاوی کی کوئی حقیقت نہیں۔حقیقت ان نیتوں کی ہے جو انسان کے اعمال کے پیچھے کارفرما ہوتی ہیں اور اعمال کے اندر صالح خون بن کے دوڑتی ہیں۔انہی سے اعمال میں حسن پیدا ہوتا ہے ، انہی نیک نیتوں سے اعمال میں زندگی آتی ہے۔آج کل پاکستان میں اسی قسم کا ایک نیک دعوی کیا جا رہا ہے۔عشق محمد مصطفی ﷺ کے حسین نام پر اور اس دعوئی کے نتیجہ میں ایک قانون بھی اس ملک میں پاس کیا گیا ہے جو ناموس رسول کی حفاظت کا قانون ہے۔بیان یہ کیا گیا ہے کہ ہمیں حضرت اقدس محمد مصطفی ع سے ایسا عشق ہے کہ آپ کی کسی قسم کی بھی گستاخی برداشت نہیں کر سکتے اس لئے جو بھی ایسی گستاخی کا مرتکب قرار پائے اسے موت کی سزادی جائے یا کم سے کم عمر قید کی سزادی جائے۔ع اس دعویٰ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ قرآن اور سنت کی روشنی میں یہ فیصلہ جو بھی اختیار کیا گیا ہے اس کی کیا حیثیت ہے۔اس پہلو سے جب میں نے قرآن کریم پر غور کیا تو سب سے پہلے تو میری توجہ اس آیت کی طرف مبذول ہوئی جس کی میں نے آج کی آیات میں سے پہلے تلاوت کی تھی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّتُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) کہ اے وہ لوگو جو ایمان لانے والے ہو! اے محمد مصطفیٰ علیہ کے غلامو! جھوٹے خداؤں کو بھی گالیاں نہ دو اگر تم ایسا کرو گے تو اس کے رد عمل میں مشتعل ہو کر وہ تمہارے بچے خدا کو بھی گالیاں دینے لگیں گے۔اس طرح اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو ان کے اعمال حسین کر کے دکھاتا ہے جبکہ واقعہ وہ حسین نہیں ہوتے اور حقیقت میں تمہارے اعمال کا فیصلہ تو اسی وقت ہوگا جب تم خدا کے حضور لوٹائے جاؤ گے اور وہ تمہیں مطلع فرمائے گا کہ تمہارے اعمال کی حیثیت کیا تھی۔گویا یہ فیصلہ کہ نیتیں صاف تھیں