خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 499 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 499

خطبات طاہر جلد۵ 499 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جولائی ۱۹۸۶ء گستاخی رسول کے قانون کی حقیقت نیز حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت کا عشق رسول (خطبہ جمعہ فرموده ۱۸ جولائی ۱۹۸۶ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت کی : وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔(الانعام: ۱۰۹) اِنَّ اللهَ وَمَلَيكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلَّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللهَ وَ رَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينَّا وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًان (الاحزاب: ۵۷-۵۹) اور پھر فرمایا: اعمال کے حسن کی بنیاد نیک ارادوں اور نیک دعاوی کے اظہار پر نہیں ہوا کرتی بلکہ نیک نیات پر ہوتی ہے جو حسین عمل میں ڈھل جاتے ہیں۔لیکن بسا اوقات انسان نیک دعاوی ہی کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھ لیتا ہے اور نیک دعاوی کو اپنے اعمال کو حسین دکھانے کے لئے ایک ذریعہ کے طور