خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 496
خطبات طاہر جلد۵ 496 خطبہ جمعہ امر جولائی ۱۹۸۶ء جہاں تمہارا جھوٹ بھی بیچ مانا جائے۔جہاں غیر کو غلبہ نصیب ہے وہیں ان کی غیر تیں مرجاتی ہیں۔اب ہندوستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے وہاں بارہا ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ شدید گستاخی کی ہے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی اور قرآن کریم کی اور اسلام کی اور کسی کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی ، ساری غیر تیں وہاں مرجاتی ہیں۔دہر یہ ملک ساتھ ہیں جہاں خدا کی بے عزتی اور گستاخی کی جاتی ہے، کوئی غیرت جوش میں نہیں آتی۔امریکہ میں ، انگلستان میں ، دوسرے ممالک میں بار بار ایسی کوششیں ہوتی ہیں کہ کھلے بندوں دشمنان اسلام آنحضرت ﷺ کی شدید ہتک کرتے ہیں۔وہاں ان کے جذ بہ جہاد کو ہوش ہی نہیں آتی ، آنکھ ہی نہیں کھلتی اس جذبے کی اور وہ جذ بہ وہاں اٹھتا ہے جہاں آنحضرت ﷺ سے محبت کرنے والے اور آپ کے عشق میں مبتلا لوگ پائے جاتے ہیں۔ان کو کمزور دیکھ کر جھوٹے الزام لگا کر ان پر حملے کرتے ہیں کہ ہماری غیرت رسول برداشت نہیں کر سکتی کہ یہ اسلام کا جہاد ہے۔کوئی ایک بھی رگ نہیں جسے سیدھی رگ کہا جاسکے۔ہرادا میں ہر طرز میں کبھی پائی الله جاتی ہے اور اس ٹیڑھی طرز فکر ٹیڑھی طرز عمل کا نام انہوں نے اسلام اور محبت رسول رکھ لیا ہے۔بہر حال جو کچھ بھی ان کا کام ہے وہ کرتے رہیں جو کچھ ہمیں سکھایا گیا ہے اور جس کی ہمیں نصیحت کی گئی ہے ہم اسی پر عمل کرتے رہیں گے۔ہمارے پیشوا اور مولیٰ اور ہمارے مطاع اور ہمارے سید و آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ ہی رہے ہیں اور ہمیشہ وہی رہیں گے۔ہم تو کسی قیمت پر کسی پہلو سے بھی آنحضور ﷺ کا دامن چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔یہ ہاتھ کاٹے جاتے ہیں تو کاٹے جائیں یہ سرقلم ہوتے ہیں تو قلم ہوں لیکن محمد مصطفی ﷺ ہمارے آقا اور مطاع اور موٹی تھے ، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے اور کوئی نہیں جو ہمیں آپ سے جدا کر سکے۔جس طرح یہ ہمیں جدا کرنے کی کوشش کریں گے، خود جدا ہوتے چلے جائیں گے اور یہ جو ادائیں ان کی ظاہر ہورہی ہیں یہ جدائی ہی کی تو علامتیں ہیں۔ان تصویروں کے بعد جو خود نقوش کھینچ رہے ہیں اپنے چہروں کے اور اپنے اخلاق کے۔کون کہہ سکتا کہ ان کے چہرے اور ان کے اخلاق محمد مصطفیٰ علیہ کے ماننے والوں کے چہروں اور ان کے اخلاق سے ملتے ہیں؟ اس لئے یہ خود دور ہٹتے چلے جارہے ہیں حضور اکرم ﷺ سے اور پرے ہوتے چلے جارہے ہیں۔جہاں تک ان کا یہ خیال ہے کہ ان کا ایک مولیٰ ہے اور حکومت وقت ان کی پشت پناہی