خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 497
خطبات طاہر جلد۵ 497 خطبہ جمعہ ا ار جولائی ۱۹۸۶ء کر رہی ہے اور دنیا کی طاقتوں کے جتنے سرچشمے ہیں وہ ان کے ہاتھ میں ہیں تو ان کو میں یہ بتا رہا ہوں کہ یہی وقت ہے اس اعلان کا جبکہ بظاہر ان کو مولی دکھائی دے رہے ہیں کہ لَا مَوْلى لَهُمْ میں قرآن کریم کے الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ ان کا کوئی مولیٰ نہیں اور وہ جماعت جس کے متعلق یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کا کوئی مولیٰ نہیں ہے میں خدا کی عزت کے تمام ناموں کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اللہ ہمارا مولی ہے اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور یہ وہ مولیٰ ہے جس نے کبھی بھی اپنے غلاموں کا ساتھ نہیں چھوڑا۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: نماز جمعہ کے بعد سنتوں سے فارغ ہوتے ہی احباب باہر تشریف لے جائیں اور وہاں صف بندی کر لیں۔اکثر تو نماز جنازہ غائب ہی ہونی ہے مگر ہماری ایک مخلص خاتون شہناز اختر صاحبہ اہلیہ مبارک احمد صاحب کھوکھر صدر جماعت آکسفورڈ وفات پاگئیں ہیں۔مرحومہ موصیہ تھیں اور اچا نک نمونیہ ہونے کی وجہ سے وفات پاگئیں۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے۔ان کا جنازہ باہر آ گیا ہے تو ان کا جنازہ پڑھتے ہوئے پھر ہم ساتھ ہی نماز جنازہ غائب بھی پڑھیں گے۔جن میں سب سے پہلے تو با بوعبدالغفار صاحب شہید کی نماز جنازہ ہوگی اور پھر ڈاکٹر فاروق احمد صاحب فانی بردار نسبتی بشارت احمد صاحب بشیر مبلغ بمبئی۔یہ جوانی کے عالم میں ہی عمر چھبیس سال کی تھی وفات پاگئے۔اس کے علاوہ ہماری مکر مہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ پیر عبدالرحمان صاحب فیصل آبا د وفات پاگئی ہیں، یہ بھی موصیہ تھیں۔ان کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔تو جمعہ کے بعد سنتیں پڑھتے ہی دوست تشریف لے جائیں باہر اور صف بندی کر لیں۔