خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 477
خطبات طاہر جلد۵ 477 خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۸۶ء اور ابھی یہ ۳۰ جون کا جو سال ہے اس کی وصولی ۳۰ جون پر ختم نہیں ہوا کرتی بلکہ ہمیشہ سے یہ طریق چلا آ رہا ہے کہ ۳۰ جون تک جو وصولیات ہیں ان میں سے بہت سی بعد میں آتی رہتی ہیں۔بعضوں کی اطلاعات بعد میں آتی ہیں اور بعض جماعتیں اگلے چند دن میں یعنی جولائی کے شروع کے دو تین ہفتے میں کوشش کر کے گزشتہ سال کا بقایا وصول کر لیا کرتی ہیں۔تو دیکھیں جہاں موسلا دھار بارش کا موسم نہیں تھا وہاں طل نے کیا نمونے دکھائے ہیں اللہ کے فضل طل نے۔خدا کے فضل کی شبنم بھی جب پڑتی ہے تو اس قدر حیرت انگیز نشو ونما دکھاتی ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا میں اس کو پھل نہیں سمجھ رہا بلکہ بیج سمجھ رہا ہوں اور یہ پیج جماعت کے نفوس کا بیج بھی سمجھ رہا ہوں اور جماعت کے اموال کا بیج بھی سمجھ رہا ہوں۔اس لئے یہ سو سے ایک دانے کے سات سو بننے والے دانے ایسے دانے نہیں ہیں جو پھل کے طور پر کھالئے جائیں گے بلکہ وہ سات سودانے ہیں جو پھر بیج کے طور پر دوبارہ پھل اگائیں گے اور جتنی مرتبہ جماعت ان کا ایک حصہ دوبارہ خدا کے فضلوں کی زمین میں پھینکتی رہے گی اسی طرح کثرت کے ساتھ سینکڑوں گنا بن کر یہ دوبارہ جماعت کو عطا ہوتے رہیں گے اور پھر وہی پھل اور وہی پیج بنتے چلے جائیں گے۔یہ ہے اللہ کی رضا کا معاملہ اپنے ان بندوں سے جن کی قربانیوں کو وہ قبول فرماتا ہے اور خدا کی راہ میں سچی اور خالص قربانی کرنے والوں کے ساتھ ہمیشہ بلا استثناء یہی سلوک ہوا ہے۔اب جن کے ساتھ خدا کا یہ سلوک ہو ان کے متعلق کوئی یہ کہے کہ ہم غالب آجائیں گے یعنی وہ مخالف غالب آ جائے گا ، یہ کیسے ممکن ہے؟ یہ خدا کے فضلوں کی تقدیر ہمارے اوپر ظاہر ہورہی ہے عملی دنیا میں یہ خوابوں کی بات نہیں ہے اور ہر دفعہ اگر دشمن نے یہ آواز اٹھائی کہ ہم غالب آئیں گے تو خدا کی یہ تقدیر ان کو یہ کہے گی افَهُمُ الْغُلِبُونَ (الانبیاء: ۴۴) بڑھ تو یہ رہے ہیں ہر سمت میں ہر طرف پھیلتے چلے جا رہے ہیں۔تم کیسے غالب آجاؤ گے؟ وہی غالب آیا کرتے ہیں جو بڑھ رہے ہوں اللہ کے فضلوں کے سہارے جن کی ادنی کوششوں کو بھی خدا تعالیٰ پھل لگارہا ہو جن کی اعلیٰ کوششوں کو بھی خدا تعالیٰ پھل لگا رہا ہو۔جنہیں بہار میں بھی پھل لگ رہے ہوں ، جنہیں خزاں میں بھی پھل لگ رہے ہوں۔جنہیں موسلا دھار بارشیں بھی بکثرت نشو و نما عطا کر رہی ہوں اور جنہیں ہلکی پھلکی نہ نظر آنے والی شبنم بھی بکثرت پھل عطا کر رہی ہو۔