خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 475
خطبات طاہر جلد ۵ 475 خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۸۶ء ایسی زرخیز زمین ہے جو مومنوں کو مہیا کی جاتی ہے کہ شبنم سے بھی وہ پودے نشو ونما پا جاتے ہیں۔اگر بارش نہیں تو شبنم ہی سہی لیکن خدا کی تقدیر اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔یہاں ربوہ کا لفظ ویسے بھی ذومعنی ہے اور بعید نہیں کہ اہل ربوہ کی طرف بھی اشارہ ہو یعنی لوگ جور بوہ سے وابستہ ہیں۔ایک زمانہ آنے والا ہے کہ ایسے قربانی کرنے والوں کے لئے کہ جن کی قربانیوں کا محورر بوہ ہوگا اور جو قربانیاں ربوہ کے ارد گرد کی جائیں گی یعنی ربوہ کی مرکزیت کے تابع کی جائیں گی اللہ تعالیٰ ان میں غیر معمولی برکتیں ڈالے گا اور اگر بارش کا سماں نہ بھی پیدا ہوا تو شبنم بھی ان کے لئے بارش کی طرح نشو ونما کا موجب بن جائے گی۔آج کا خطبہ نئے مالی سال کا پہلا خطبہ ہے اس لحاظ سے میں نے ان آیات کا انتخاب کیا تاکہ مالی قربانیوں کے سلسلہ میں جماعت کو جہاں مختصراً ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کروں وہاں ایک خوش خبری بھی دوں کہ آپ کے حق میں بہر حال قرآن کریم کی یہ پیش خبری پوری ہو چکی ہے اور اللہ تعالیٰ کا بے انتہا فضل ہے کہ جماعت احمدیہ کی مالی قربانی پر یہ آیت اپنے ہر پہلو کے ساتھ اور ہر تفصیل کے ساتھ چسپاں ہو رہی ہے۔پاکستان میں جو حالات ہیں جماعت کے اوپر پابندیوں کے اقتصادی لحاظ سے، قانونی لحاظ سے، اخبارات کے رجحان کے تعلق سے یا علماء کے جلسے جلوسوں اور فحشاء کلامی کے لحاظ سے جس پہلو سے بھی دیکھیں وہاں جماعت کے جہاں تک مالی حالات کا تعلق ہے اور قربانیوں کی استطاعت کا تعلق ہے ان کے لئے وہ موسم تو نہیں جسے موسلا دھار بارش کا موسم قرار دیا جاسکتا ہے۔وہاں تو دنیاوی لحاظ سے حل کا سا موسم ہے یعنی شبنم پر گزارہ کرنے والی بات ہے۔لیکن خدا کا یہ وعدہ ہے کہ وہ جماعتیں جو ربوہ کے ساتھ منسلک ہوں یعنی اس ٹیلے کے ساتھ جو خدا کی برکتوں کا ٹیلا ہے ان کے لئے کل بھی بہت کافی ثابت ہوگی۔تو انتہائی نامساعد حالات کے سال میں بھی خدا تعالیٰ نے وہاں جماعت کو غیر معمولی مالی قربانی کی توفیق بخشی۔ہے۔تقریب دو مہینے پہلے کی بات ہے کہ ناظر صاحب بیت المال کا بہت سخت گھبراہٹ کا خط ملا کہ تقریباً ایک کروڑ روپیہ وصولی سے ہم پیچھے ہیں اور بہت تھوڑا وقت رہ گیا ہے۔ان کو میں نے لکھا کہ آپ گھبرا کیوں رہے ہیں اللہ نے پہلے کب چھوڑا تھا ہمیں جواب چھوڑے گا۔خدا کی ذات پرحسن