خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 474
خطبات طاہر جلد۵ 474 خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۸۶ء کا مطالعہ کر لیجئے انفاق فی سبیل اللہ میں فرق کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی اور مثال نظر نہیں آسکتی۔یعنی انفاق فی سبیل اللہ کو غیر فی سبیل اللہ کے خرچ سے ممتاز کرنے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی مثال نہیں آسکتی۔جماعت احمدیہ کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا اخرجات کے معاملہ میں یعنی خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے معاملہ میں یہی سلوک چلا آ رہا ہے۔اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ اس مضمون کو آگے بڑھا کر یہ فرماتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے انفاق فی سبیل اللہ کی مثال ایسی ہے جیسے وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ وَتَثْبِيتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبُوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَأَتَتْ أَكُلَهَا ضِعْفَيْنِ ۚ فَإِنْ لَّمْ يُصِهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ وَاللهُ بِمَا (البقرة: ۲۶۶) تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ یہ جو خرچ کرتے ہیں آگے اس کو بڑھانے کے لئے اور اس کی حفاظت کے لئے خدا تعالیٰ سامان مقر فرماتا ہے اور اللہ کی تقدیر اس کی حفاظت کرتی ہے اور یہ دیکھتی ہے کہ ہر حال میں ان کی محنتیں بڑھیں اور نمو پائیں اور بکثرت انمار پیدا کریں۔چنانچہ مثال دی کہ جواللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں ان کی مثال ایسی ہے ایسے ٹیلہ پر ایسے ربوہ میں وہ قربانیاں بوئی گئی ہیں بیج کی صورت میں کہ اگر ان پر تیز مینہ برسانے والی ہوائیں چلیں اور موسلا دھار بارش برسائی جائے تب بھی وہ زمین ایسی لکھی نہیں ہے کہ تیز بارش کے نتیجہ میں اس کی فصل برباد ہو جائے اور یہاں ربوہ کا لفظ استعمال فرما کر یہ وجہ بھی بیان فرما دی کہ کیوں تیز بارش یہاں نقصان نہیں پہنچاسکتی کیونکہ ربوہ سے مراد ٹیلے قسم کی چیز ہے پہاڑی قسم کا علاقہ یعنی بڑے بلند پہاڑ نہیں بلکہ سطح مرتفع میں عموماً جو شکل نظر آیا کرتی ہے چھوٹے چھوٹے ٹیلے جہاں پانی ٹھہر نہیں سکتا۔بلند پہاڑوں میں بڑی بڑی چٹانیں ہوتی ہیں وہاں کاشت کے لحاظ سے موزوں موسم نہیں ہوا کرتا نہ موزوں زمین مہیا ہوتی ہے پوری طرح لیکن ایسا علاقہ جسے ربوہ کہتے ہیں یہ Plateau Like سطح مرتفع ایسے علاقہ میں کاشت کی سہولتیں بھی ہوتی ہیں اور کثرت سے زمین مناسب حال مل جاتی ہے اور وہاں پانی ٹھہرتا نہیں اس لئے تیز بارش بھی ہو تو وہ ایسی فصل کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی جو ربوہ کے اوپر آباد ہواور اگر تیز بارش نہ ہوتو فرمایا کاتی