خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 473
خطبات طاہر جلد۵ 473 خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۸۶ء امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں بعض پھل ایسے ہوتے ہیں جن کے بیج رڈی اور پھینک دینے کے لائق سمجھے جاتے ہیں اور انسان کو ان کے بیجوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔وہ غلاف اور وہ مواد جو بیجوں کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوتا ہے اس میں وہ دلچسپی رکھتے ہیں، اس کو پھل کہتے ہیں اور بعض پھل ایسے ہوتے ہیں جن میں بیج کھانے کے لائق سمجھا جاتا ہے اور اردگرد کا غلاف اور اس کی دیگر چیزیں جو بیج کے ساتھ متعلق ہوتی ہیں وہ ردی سمجھ کر پھینک دی جاتی ہیں۔مثلاً بادام ہیں بادام کا چھلکا کسی لائق نہیں سمجھا جاتا اور بادام کھایا جاتا ہے۔اس کے برعکس آم ہے اس کی گٹھلی میں آپ کو کوئی دلچسپی نہیں ہوگی لیکن آم کے پھل میں دلچسپی ہے۔حَبَّة وہ دانے ہیں جو اپنی ذات میں پھل بھی ہیں اور بیج بھی ہیں اور ان کے اندر پھل اور بیچ کے لحاظ سے کوئی بھی تفریق نہیں ہوسکتی۔کلیۂ سارے کا سارا کھانے کے لائق اور سارے کا سارا بیج بھی ہے اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی مثال کے طور پر اس سے بہتر مثال چینی نہیں جاسکتی تھی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو وہ خرچ کرتے ہیں اس کا پھل بھی ان کو ملتا ہے لیکن پھل ایسے پیج کی صورت میں ملتا ہے جو خود آگے بڑھنے والا پیج ہے۔یعنی ایک پہلو سے ان کو ان کی کوششوں کا ان کی قربانیوں کا پھل مل رہا ہوتا ہے دوسرے پہلو سے ایسا پھل مل رہا ہوتا ہے جو آگے بڑھنے والا ہے اور مزید پھل پیدا کرنے والا ہے اور مزید پیج پیدا کرنے والا ہے۔ان کے نفوس میں بھی برکت ملتی ہے، ان کے رزق میں بھی برکت ملتی ہے اور ایک ہمیشہ جاری رہنے والا معاملہ ان کے ساتھ کیا جاتا ہے۔یعنی خدا کا فضل ایک پھل کی صورت میں عطا ہو کر وہاں ٹھہر نہیں جاتا بلکہ خدا کا فضل ایک ایسے جاری پھل کی صورت میں ملتا ہے جسے کو ثر بھی کہا گیا ہے۔نہ ختم ہونے والا فضلوں کا سر چشمہ ان کو عطا ہو جاتا ہے اور پھر جتنا جتنا وہ خدا کے فضلوں میں سے خرچ کرتے چلے جاتے ہیں اتنا اتنا ان کا پھل بھی بڑھتا جاتا ہے اور ان کا بیج بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔مزید اپنے رزق کو بڑھانے کی استطاعت بھی ان میں پیدا ہوتی چلی جاتی ہے اور مزید اپنے نفوس کو بڑھانے اور پھیلانے کی استطاعت بھی ان میں پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔یہ وہ نقشہ ہے جو الہبی جماعتوں پر بڑی تفصیل کے ساتھ صادق آتا ہے اور الہی جماعتوں کے انفاق فی سبیل اللہ کو ہر دوسرے انفاق فی سبیل اللہ سے الگ اور ممتاز کر کے دکھاتا ہے۔مذہب کی تاریخ کا مطالعہ کر لیجئے اور غیر مذہبی تحریکات یا مذہب کے نام پر لا مذہبی تحریکات