خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 467 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 467

خطبات طاہر جلد ۵ 467 خطبه جمعه ۲۷ جون ۱۹۸۶ء چٹھیاں آئیں ہیں تو پتہ چلتا ہے ۔ بڑا ہی ظلم ہے، بہت ہی اخلاق سے گری ہوئی بات ہے ۔ یہاں کسی جماعت میں جا کر مہمان بنے اور پھر خدمت کرنے کی بجائے ان سے پیسے مانگ کر بھاگ آئیں دار پھر ان کو پیسوں کی ادائیگی کا خیال ۔۔۔۔۔ کرے گا اور اس کا کردار اس کی ضمانت ایسی موجود ہے پھر بے شک ورنہ آپ اس کی مدد کریں اور پنے ایمان پر زخم لگا لیں یہ کونسا سودا ہے عقل کا ۔ دونوں جگہ نقصان پہنچتا ہے۔ یہ تو بے ایمان بن ہی جاتے ہیں خدا کی نظر میں جو پیچھے رہ جانے والے ہیں بے چارے ان پر بڑا برا اثر پڑتا ہے کہ اچھے لوگ تھے، یہ کہاں سے آئے تھے، کس قسم کی مخلوق ہیں؟ احمدیت کے بھائی چارے کی خاطر ، احمدیت کی محبت کے لئے ہم نے ان سے یہ یہ کچھ کیا اور بجائے اس کے ہم سے پیار اور محبت کا سلوک کر کے جاتے ہمیں مصیبت میں مبتلا کر گئے ہیں۔ بعض لوگوں نے قرض لے کر دیئے لوگوں سے، بنکوں سے اور جانے والا بھول گیا ۔ تو مقامی دوستوں کو تو میں نصیحت کرتا ہوں ہرگز قرض مانگنے والوں کی طرف توجہ ہی نہ دیں اس معاملے میں ۔ اگر کوئی خطرناک ضرورت ہے تو اس سے کہیں نظام جماعت کی طرف رجوع کرو۔ اگر تمہاری ضمانت کوئی ایسی ہے جس پر نظام جماعت کو تسلی ہو اور وہ سفارش کرے تو پھر ہم دینے کے لئے تیار ہیں ورنہ ہم ہرگز نہیں دیں گے۔ اپنے طور پر اگر آپ کو شرم آتی ہے تو میرے اس کہنے کے بعد مجھ پر ذمہ داری ڈالیں آپ کہیں کہ ہمیں ہدایت یہی ہے کہ کوئی قرضہ نہیں دیا جائے گا جب تک کے نظام جماعت سے تسلی نہ کر لی جائے ۔ پھر آپ دیکھیں کس طرح ان کی حوصلہ شکنی ہوگی اس غلط رجحان کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ آخری بات جس کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے وہ دعا ہے۔ اول اور آخر دعا کو اپنا سہارا، اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں ، آفات سے بچنے کے لئے اپنی ڈھال بنائیں، دنیا میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے اس کو اپنا ذریعہ بنالیں اور آپس میں محبتوں کے تعلق بڑھانے کے لئے ، مشکلات میں آسانیاں حاصل کرنے کی خاطر ، ان ذمہ داریوں کو عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کے لئے توفیق پانے کی خاطر دعا کو ہمیشہ یاد رکھیں ۔ یہ اتنی ٹھوس حقیقت ہے کہ اس سے زیادہ ٹھوس حقیقت سوچی نہیں جا سکتی کہ خدا اور بندے کے تعلق کے لئے دعا سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں ۔ مانگنے والا ہاتھ آپ کا ہو اور عطا کرنے والا ہاتھ خدا کا ہو۔ یہ وہ تعلق ہے جو سب سے زیادہ پیارا اور دائمی تعلق ہے جو آقا اور غلام کے درمیان قائم ہوتا ہے تو پھر کبھی ٹوٹتا نہیں خدا کے فضل کے ساتھ اور بڑھتا رہتا ہے اور اس