خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 41

خطبات طاہر جلد۵ 41 خطبہ جمعہ ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء تو فرمایا ہے کہ یہاں خدا کی تقدیر عام جاری نہیں رہی۔اب کوشش کرے گی ، بڑے جلال کے ساتھ ظاہر ہوگی اور جو بھی اُس کے پیاروں پر حملہ آور ہوتے ہیں وہ انہیں لاز م مٹائے گئی ، انہیں لاز مانا کام بنا کر دکھائے گی اب عام تقدیر کا یہاں مقام ہی نہیں رہا۔اس تقدیر کی روح سے اگر مخالف بھی یہ نتیجہ نکلتا تو مقتدر خدا کی تقدیر اس نتیجہ کو ناکام بنادے گی اور ایک نیا نتیجہ پیدا کر کے دکھا دے گی۔ان معنوں میں مقتدر قد میرا ور قادر دونوں سے زیادہ غلبے کے ساتھ اپنی قدرت نمائی کرتا ہے۔لیکن ایک پہلو سے یہ مضمون محدود ہو جاتا ہے لیکن صرف خدا کے پاک بندوں کے لئے یہ تقدیر جوش دکھاتی ہے۔تو یہ تقدیر خاص بھی ہے اس لحاظ سے محدود ہے اور چونکہ تقدیر خاص ہے اس لئے زیادہ طاقتور بھی ہے اور زیادہ غالب بھی ہے۔تو تین قسم کی تقدیریں ہمیں نظر آئیں تقدیر عام اور تقدیر خاص جو مذہبی تقدیر ہے اور پھر اخص یعنی مقتدر کی تقدیر۔پھر قرآن کریم اسی مضمون کو آنحضرت ﷺ کے ذکر میں بیان فرماتا ہے: فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ اَوْ نُرِيَنَّكَ الَّذِى وَعَدْنُهُمْ فَإِنَّا عَلَيْهِمْ مُّقْتَدِرُونَ (الزخرف:۴۲ ۴۳) اگر ہم تجھے لے بھی جائیں یعنی اپنے پاس بلا بھی لیں فَإِنَّا مِنْهُمْ مُنْتَقِمُونَ ہم لازماً ان لوگوں سے تیرا انتقام لیں گے یعنی تو تو ہمیشہ نہیں رہ سکتا اس دنیا میں لیکن جس مقتدر خدا سے تیرا تعلق ہے وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔اس لئے اگر تیرے دشمن مٹ جائیں تو وہ مٹ جائیں گے ضروری نہیں اُن کے کام کو جاری رکھنے والے ہوں لیکن تو اگر نہ رہے اس دنیا میں تو تیرا کام نہیں مٹنے دیا جائے گا اور جنہوں نے تجھ پر ظلم کئے ہیں ہم ان سے لازماً انتقام لیں گے لیکن بعد کے وعدے صرف نہیں ہیں اَوْ نُرِيَنَّكَ الَّذِى وَعَدْنُهُمْ فَإِنَّا عَلَيْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ، أَوْ میں استثناء بتایا جاتا ہے فرمایا یہ نہیں کہ ہم مستقبل کے وعدے کر رہے ہیں پہلے تجھے واپس بلا لیں گے اور پھر ان سے انتقام لیں گے۔کچھ حصہ ایسا بھی ہوگا جو اؤ کے تابع ہیں کہ تیری زندگی میں تجھے بھی دکھائیں گے کہ کس طرح خدا مقدرت رکھتا ہے اقتدار رکھتا ہے ان لوگوں کے اوپر تیرے مضمون کو غالب کرے گا اور ان کے مضمون کو مغلوب کر کے دکھائے گا۔