خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 462 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 462

خطبات طاہر جلد۵ 462 خطبہ جمعہ ۲۷ جون ۱۹۸۶ء سے چودہ سو برس پہلے جس طرح کی صفائی آپ نے اپنی رکھی اور جس طرح کی صفائی کی تعلیم دی، حیرت سے سر جھک جاتا ہے آپ کی عظمت کے سامنے حیران ہو جاتا ہے انسان کہ کتنا عظیم انسان تھا صرف صفائی کے نکتہ نگاہ سے ہی دیکھ لیں۔عرب کا جاہلیت کا چودہ سوسال پہلے کا زمانہ اتنی نفیس، اتنی نظیف تعلیم ہے اتنی باریکیوں میں اتر کر تعلیم دی گئی ہے۔جو بظاہر اپنی تعلیم تہذیب پر نازاں ہیں وہ آج بھی اسلامی تعلیم کا مقابلہ نہیں کر سکتے صفائی کے معیار کے لحاظ سے۔کثرت سے ایسی چیزیں ہیں جو ان کو مغربی تہذیب نے نہیں عطا کیں اور اسلام سے لا بلد ہیں اس لئے ان کو ملی نہیں۔کاغذ کی صفائی ، پیشاب کر رہے ہیں اور اسی طرح کپڑے پہن لیتے ہیں، گند اور بدبو کا اجتماع ساتھ لئے پھرتے ہیں اور اس کو وہ صفائی سمجھتے ہیں۔اور منہ گورا چٹا کر لیا تو معیار صفائی کا پورا ہو گیا۔یہ اعتراض کی خاطر نہیں بتا رہا، موازنے کی خاطر بتارہا ہوں۔ہر چند کہ ان کا عام معیار صفائی کا بہت بلند ہے لیکن جب اسلام کی تعلیم کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھتے ہیں تو ان میں بہت بڑے خلا دکھائی دیں گے۔پس آپ کو اسلام کے نمائندے کے طور پر صفائی کا معیار ساتھ لے کر آنا ہے اور ان کو سکھا کر جانا ہے نہ کہ ان کے اعتراض کا نشانہ بن کر۔اس لئے جہاں اندرونی صفائی میں آپ کا پاکیزگی کا معیار بہت بلند ہے وہاں بیرونی صفائی میں اپنی خامیوں پر نظر رکھیں اور سنت سے جہاں جہاں احتراز کر کے آپ نقصان اٹھا بیٹھے ہیں وہاں سنت کی طرف واپس لوٹیں۔حضرت محمد مصطفی ﷺ نے رستوں کے حق مقرر فرمائے اور رستوں کے حقوق میں سے ایک حق یہ تھا کہ کوئی چیز بھی جو کسی طرح بھی انسان کے لئے آزار کا موجب بن سکتی ہے اسے رستے سے دور کر دو اور اس تعلیم کو ایمانیات میں داخل فرمایا، اتنا بڑا مرتبہ دیا۔فرمایا ایمان کے ستر شعبے ہیں اور سب سے ادنی شعبہ ایمان کا یہ ہے کہ رستوں کے حقوق ادا کرو اور کوئی ایسی چیز جو کسی رنگ میں بھی تکلیف کا موجب بنے اس کو دور کر دو۔(مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر :۵۱) اب یہاں جگہ جگہ انسانوں کی نہیں تو جانوروں کی غلاظتیں آپ کو ملیں گی رستوں میں اور کوئی ان کی پرواہ نہیں کرتا۔اگر اسلامی تعلیم کو ملحوظ رکھا جائے تو ہر وہ چیز جو نظر کو تکلیف دے، جو انسانی طبیعت کی نفاست کو تکلیف دے، جو اس کے پاؤں کو تکلیف دے یا ہا تھ کو تکلیف دے یا بدن کے کسی حصے کو تکلیف دے ہر اس تکلیف دہ