خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 461
خطبات طاہر جلد۵ 461 خطبہ جمعہ ۲۷ / جون ۱۹۸۶ء وہاں قدامت پسند لوگ ہیں اور نسبتاً امیر لوگ ہیں اور باقی انگلستان کے شہروں کے مقابل پر Tilford کے اردگرد بسنے والی آبادی کا اپنا صفائی کا معیار کافی اونچا ہے اور میں نے ان کو دیکھا ہے وہ خود جب سیر کی پارٹیوں پر جائیں تو رستہ میں وہ کوک کے خالی ڈبے بھی پھینک دیتے ہیں، اس اچھے میعار کے باوجود اور سگریٹ کی ڈبیاں اور دوسری چیزیں کئی آپ کو نظر آئیں گی پھینکی ہوئی۔باہر کی نسبت کم لیکن پھر بھی نظر آتی ہیں لیکن لجنہ کی واک کے موقع پر۔کسی نے ایک ڈبہ گرا ہوا دیکھ لیا تھا تو اس پر اعتراض شروع ہو گئے اور ایک صاحب نے اخباروں میں بھی خط لکھ دیا کہ یہ لوگ آتے ہیں گند پھیلا دیتے ہیں ہمارے علاقے میں۔حالانکہ وہ اس طرح رہ گیا تھا کہ میں نے فوری طور پر اس سیر کے بعد وہاں آدمی دوڑا کر ، آدمی بھجوا کر سارے ڈبے اور سارے کاغذ کے ٹکڑے، لفافے ، پلاسٹک کے تھیلے جو پھینکے گئے تھے سب اکٹھے کروا لئے تھے لیکن چونکہ رات جلدی آگئی اس لئے ایک آدھا رہ گیا پیچھے اور اس کو بھی اعتراض کا نشانہ بنالیا گیا۔اب جب کہ ہزار ہا آدمی کثرت سے آئیں گے اور نسبتا ادنی صفائی کے معیار کے ملکوں سے تعلق رکھنے والے آئیں گے تو خطرہ ہے کہ اگر وہاں انہوں نے صفائی کے معیار کا خیال نہ کیا تو علاقے کے لئے بہت سے اعتراضات کے نشانے چھوڑ جائیں گے۔آنے والے تو آکر چلے جائیں گے پیچھے مقامی لوگوں کے لئے مصیبت بنی رہے گی۔کوئی نہ کوئی مضمون اخبار میں آئے گا۔کوئی کونسل والا باتیں کرے گا کہ یہ لوگ گندے ہیں ہم کہا نہیں کرتے تھے کہ ایشیائیوں کو جگہ دے دی تو گند پھیلے گا۔تو ایشیائیوں کی غیرت کا سوال نہیں ہے احمدیوں کی غیرت کا سوال ہے۔اسلام کی غیرت کا سوال ہے ہم تو کسی ملک سے تعلق رکھنے کی حیثیت سے یہاں نہیں آئیں گے۔جب افریقن آئے گا، جب امریکن آئے گا، جب نائجیر ئین آئے گا، جب انڈونیشین آئے گا، جب میجین آئے گا ، جب ماریشین آئے گا، پاکستانی یا بنگلہ دیشی آئے گا تو وہ سارے کسی ملک کی نمائندگی میں نہیں بلکہ احمدیت کی نمائندگی میں آئیں گے۔وہ سارے اسلام کی نمائندگی میں آئیں گے۔وہ حضرت محمد مصطفی اے کے سفیر بن کر یہاں آئیں گے اور اسلام کا معیار صفائی میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ساری دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوموں کے معیار صفائی سے اونچا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سیرت پر آپ غور کر کے دیکھیں۔اس زمانے میں آج