خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 452 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 452

خطبات طاہر جلد۵ 452 خطبہ جمعہ ۲۷ / جون ۱۹۸۶ء پر لینے پڑیں گے جو بالعموم پیشہ ور مزدور کیا کرتے ہیں اور رضا کارانہ کاموں کی روایات سے کچھ آگے نکل جاتے ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ ربوہ میں بھی جلسہ کے دنوں میں بعض دفعہ کارکنان مسلسل چوبیں گھنٹوں میں سے ہیں میں اکیس اکیس گھنٹے جاگ کر گزارتے ہیں ، بہت محنت کرتے ہیں لیکن مزدوری کا کام پھر بھی ایک مزدور ہی کا کام ہے اور وہ زیادہ مشقت طلب ہوتا ہے۔اسلام آباد میں جس طرح کے تعمیری کام در پیش ہیں مہمانوں کی آمد کے لئے تیاریاں شروع ہو چکی ہیں اور دقت محسوس ہو رہی ہے اس وقت ہاتھ سے کام کرنے والے نوجوانوں کی کیونکہ بعض فن کے ماہرین تو وہاں موجود ہیں لیکن ان کو مدد مہیا کرنے کے لئے جو، انگریزی میں کہتے ہیں Hands درکار ہیں، جتنے محنت کش چاہئیں ، ان کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔جو طلبا ءاب چھٹیاں پانے والے ہیں سکولوں یا کالجوں میں اور مضبوط ہیں، محنت کر سکتے ہیں وہ حسب توفیق اگر ہفتہ یا دس دن وقف کریں تو اسلام آباد میں ہر وقت دس پندرہ نو جوانوں کا ایک دستہ رہ سکتا ہے جو اگر اتنی مشقت نہ بھی کر سکے جتنی ایک مزدور کرتا ہے، آپس میں ایک دوسرے کا بوجھ بانٹ کر وہ انشاء اللہ وقت کی ضرورت کو پورا کر سکیں گے۔اسی طرح انصار میں سے ریٹائر ڈ ہیں اور بڑی ہمت والے انصار ہیں یہاں کے۔وہ بھی وقت دے سکتے ہیں۔لجنات پہلے بھی وقت دے رہی ہیں آئندہ بھی انشاء اللہ دیں گی۔ان کے لئے یہ تو ممکن نہیں کہ وہ ہفتہ دس دن کے لئے وہاں جا کر ٹھہر جائیں۔لیکن ہفتہ اور اتوار کوخدا کے فضل۔بہت شوق و ذوق سے خدمتیں پیش کر رہی ہیں۔ނ علاوہ ازیں جلسے کے لئے اپنے شریف النفس دوستوں کو دعوت دینے کا کام ابھی سے شروع کر دیں اور جن کو بھی آپ نے دعوت دینی ہے ان کے متعلق نظام جماعت سے پتہ کر کے ضروری پاس یا جو بھی نشان ان کو ملنے ہیں وہ حاصل کر لیں ورنہ بسا اوقات بڑی الجھن پیدا ہو جاتی ہے۔دوست اپنے ذوق و شوق میں محبت کے نتیجے میں تبلیغ کے شوق کے نتیجے میں ، دوستوں کو دعوت دے دیتے ہیں اور پھر ان کو سنبھال نہیں سکتے۔نتیجہ جب وہ آتے ہیں تو رضا کا راس خیال کے پیش نظر کہ کہیں کوئی فتنہ پرداز نہ ہو، کوئی شرارت کی نیت سے نہ آیا ہو کیونکہ واقعہ ان دنوں میں شرارت کی نیت سے آنے والے بھی آتے ہیں اور ان کو وہ روکتے ہیں ان کو پوچھتے ہیں تم کون ہو اور کس نے تمہیں بلایا تھا اور بعض دفعہ اس سے بہت برا اثر پڑتا ہے طبیعتوں پر۔چنانچہ گزشتہ جلسہ کے بعد مجھے