خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 451 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 451

خطبات طاہر جلد۵ 451 خطبہ جمعہ ۲۷ /جون ۱۹۸۶ء ہے اس کا برآمدہ تھا ساٹھ ساٹھ ستر ستر مہمان بھی جلسے کے دنوں میں رات بسر کیا کرتے تھے۔اس لئے ویسی سہولتیں اور گنجائشیں تو یہاں نہیں ہیں لیکن اکثر انگلستان میں بسنے والے احمدی قادیان یار بوہ کے تربیت یافتہ ہیں یا ان کو ان روایات سے کچھ نہ کچھ واقفیت ضرور ہے۔اس لئے بیڈز اور بریک فاسٹ کے جھگڑوں میں نہ پڑیں اور اپنی پرانی عادتوں کی طرف لوٹ جائیں۔اپنے بستر زمین پر بچھا دیں، سارا فرش سب کا بستر ہو جائے اور جتنے بھی کثرت سے آپ مہمانوں کو یہاں سماسکتے ہیں ان کوضرور خوشی سے اپنے گھروں کی پیش کش کر یں۔گزشتہ سال کا میرا تجربہ ہے کہ انگلستان کی جماعت خدا کے فضل سے اس معاملے میں ہرگز پیچھے رہنے والی نہیں لیکن انگلستان کے خود باہر سے آنے والے اتنی تعداد میں ہوتے ہیں اور اس سال جو جلسے کی خبریں آرہی ہیں آنے والوں کی وہ تو غیر معمولی طور پر زیادہ ہیں۔اس لئے حتی المقدور سب کوشش کے باوجود بھی آپ ان ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکیں گے لیکن جہاں تک ممکن ہے سعادت سے حصہ لیں اور اپنے گھروں کو خدا کی راہ میں پیش کر دیں۔وہ مہمان جو آ کر آپ کے آرام میں مخل ہوں گے، اپنے پیچھے ہمیشہ کے لئے بکثرت برکتیں بھی چھوڑ جائیں گے اور تھوڑے دنوں کی تنگی آپ کے لئے لمبے عرصے کے لئے وسعتوں میں تبدیل ہو جائے گی۔اس لئے اس خاطر نہیں کہ آپ اس تنگی کی خاطر وسعتیں حاصل کریں بلکہ اس تنگی کو سعادت جانتے ہوئے اگر آپ خدا کی خاطر اسے قبول فرمائیں گے تو وہ وسعتیں جو آنی ہی آتی ہیں اس کے عقب میں ، وہ اور زیادہ شاندار وسعتیں بن کر آئیں گی خدا کی رضا اور پیار کو ساتھ لے کر آئیں گی اور ہمیشہ کے لئے اللہ کی برکتوں کا سایہ آپ کے سر پر رہے گا۔دوسری اہم ضرورت کارکنوں کی ہے۔انگلستان کی جماعت خدمت کے سب مواقعوں میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے اور کبھی یہاں یہ شکایت پیدا نہیں ہوئی گزشتہ دو اڑھائی سال کے قیام کے دوران کہ خدمت کے مواقع تھے لیکن جماعت آگے نہیں آئی۔انصار کیا ، خدام کیا، لجنہ کیا ، حیرت انگیز اخلاص سے انہوں نے ہر آواز پر لبیک کہا ہے لیکن جلسے کی ضرورتیں بظا ہر آپ کی طاقت سے زیادہ معلوم ہوتی ہیں اس وقت۔صرف جلسہ کے دوران کی خدمات کا سوال نہیں بلکہ جلسہ سے پہلے اسلام آباد کی تیاری کا بھی سوال ہے۔وہاں ایسے کام بھی ہمیں رضا کارانہ طور