خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 446
خطبات طاہر جلد ۵ 446 خطبه جمعه ۲۰ جون ۱۹۸۶ء جاتا تھا کہ ان پر پورا اعتبار نہیں کرنا ان میں فلاں رگ پائی جاتی ہے اور فلاں رگ پائی جاتی ہے ۔ جب ابتلا کا وقت آیا تو ایک چٹان کی طرح ایک بنیان مرصوص کی طرح ایک جان ہو کر ان سب نے قربانیاں دیں ہیں اور ایک لمحہ کے لئے بھی جماعت کی عزت و ناموس کا سر جھکنے نہیں دیا۔ کلمہ کی محبت کے علم کو بلند رکھا ہے اور کوڑی کی بھی پرواہ نہیں ہے کہ ان کے سر پر کیا گذر جاتی ہے ۔ ایسے حالات پیش آئے کہ جب تک واقعہ یہ خطرہ تھا کہ کلیہ سارے کے سارے احمدی و احمدی وہاں قتل و غارت اور شہید کر دیئے جائیں لیکن مجال ہے جو ایک لمحہ کے لئے بھی ان کے پائے ثبات میں لغزش آئی ہو۔ پہلے سے بڑھ کر ان کے عزم بلند ہو گئے ، ان کی ہمتیں جوان ہوگئیں ، ان کے اندر غیر معمولی حوصلے پیدا ہوئے اور نظر پڑتی تھی تو رشک سے اور محبت سے نظر پڑتی تھی کہ خدا کی شان ہے کہ کوئٹہ سے خدا تعالیٰ نے ایسی شاندار جماعت عطا فرمادی ہے ۔ وہ پہلے ہی تھی لیکن خدا کی تقدیر ان کے چھپے ہوئے جو ہروں کو لیاں کرنا چاہتی تھی۔ چنانچہ اس دور میں وہ سارے چھپے ہوئے جو ہر نمایاں ہو گئے ۔ ۔ پھر اب دوبارہ صوبہ سرحد کی طرف اس ہوا نے رخ کیا اور مردان میں احمدی خاتون کو بڑی کیا شاندار قربانی کی توفیق عطا ہوئی ہے۔ خالصہ اللہ عبادت کی خاطر وہ خاتون قتل کی گئی ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ مقتول نہیں ہیں ، مردہ نہیں ہیں ، وہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہوگئی ہیں۔ اس ساری تاریخ کو اگر آپ سمیٹنے کی کوشش کریں تو سمیٹا نہیں جائے گا۔ دو تین سال کے اندر ایسی خدا نے حیرت انگیز جماعت کو قربانی کی توفیق عطا فرمائی ہے، ایسی عظمتیں عطا کی ہیں کہ ان کو دیکھنے کے لئے ہمیشہ آپ مڑ کر تاریخ میں ڈھونڈا کرتے تھے۔ اب آنے والی نسلیں آپ میں ڈھونڈا کریں گی اور تلاش کے لئے ان کو زیادہ کوشش نہیں کرنی پڑے گی۔ آپ تو آج آسمان کو قربانیوں کے ستاروں سے بھر چکے ہیں اور بھر تے چلے جارہے ہیں یہ زور بازو سے نصیب ہونے والی سعادت نہیں ہے یہ خدا کی خاص عطا ہے اور جتنا بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔ میں تو جب اس مضمون پر غور کر رہا تھا تو مجھے ولی دکنی کا یہ شعر یاد آ گیا کہ چلی سمت غیب سے اک ہوا کہ چمن سرور کا جل گیا ہوا مگر ایک شاخ نہالِ دل جسے غم کہیں سو ہری رہی امر واقعہ یہ ہے کہ یہ ہوا جو جنوب سے چلی یا شمال سے چلی ۔ اس نے شمال کا رخ کیا یا