خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 447 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 447

خطبات طاہر جلد۵ 447 خطبہ جمعہ ۲۰ /جون ۱۹۸۶ء جنوب کا رخ کیا ایک ایسی ہو تھی جس نے احمدی چمن کے سرور کو واقعی جلا دیا ، بہت ہی بے چینی پیدا کی ، بے کیف کر دیا زندگی کو ان معنوں میں کہ ہر روز جماعت اپنے کسی بھائی کبھی کسی بہن ، اپنے کسی جدا ہونے والے کے دکھ کو محسوس کرتی تھی اور اس سے بڑھ یہ کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو نہایت ہی گندی اور ذلیل گالیاں دی جاتی تھیں اور جماعت کو صبر کی تلقین تھی۔کوئی اس کے مقابل پر کچھ نہ کہہ سکتا تھا نہ کر سکتا تھا۔روزانہ احمدی گھروں تک یہ گندی آواز میں پہنچائی جاتی تھیں۔اخباروں کے منہ کالے کر دیے جاتے تھے اور یہ ایک دن یا دو دن کا ابتلا نہیں تھا ، سالہا سال تک مسلسل روزانہ یہ ظلم ہوتا رہا ہے۔پس یہ کہنا ہر گز بے جا نہیں کہ ایک ایسی ہوا چلی ہے جس سے جماعت احمدیہ کے سرور کا سارا چمن جل گیا لیکن ایک شارخ نہالِ دل باقی رہی ہے۔وہ کلمہ طیبہ کی محبت کی شارخ نہال ہے۔یہ ساری ہوائیں جنہوں نے سرور کے ہر چمن کو جلا کر خاکستر کر دیا۔احمدی دلوں سے کلمہ طیبہ کی پاک شارخ نہال کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکیں۔وہ شارخ نہال دل بڑھتی رہی، اس کی احمدی اپنے خون سے آبیاری کرتے رہے، اس پر آنچ نہیں آنے دی۔اور آپ دیکھیں گے کہ یہی شارخ نہالِ دل ہے جو تمام دنیا میں ایک تنومند درخت کی صورت میں ابھرنے والی ہے۔اس کی شاخیں سارے عالم سے باتیں کریں گی ، زمین کے کناروں تک پہنچیں گی۔یہی ہے جو آپ کے مستقبل کی ضمانت ہے یہی وہ شاخ نہال ہے کلمہ طیبہ کی محبت کی شاخ نہال جس نے لازماً غالب آتا ہے اور ساری دنیا کو اپنی چھاؤں تلے لے لینا ہے۔تمام دنیا کے پرندے اس کی شاخوں پر بیٹھیں گے ، اس سے روحانی رزق پائیں گے، گرمی اور سردی سے بچیں گے اور اللہ کی تسبیح اور تحمید کے گن گائیں گے اور جب ساری دنیا اس شاخ نہال کے عظیم الشان بنے والے درخت کی چھاؤں تلے آجائے گی تو ان سب کی دعائیں، ان سب کی حمد، ان سب کے خدا کی محبت میں گائے جانے والے گیتوں میں آپ کے دلوں کی آواز شامل رہے گی۔خدا کی تقدیر کبھی آپ کو نہیں بھولے گی۔ان کے ہر دل سے اٹھنے والے نغمہ میں آج کے احمدیوں کے دل کی گریہ وزاری شامل رہے گی اور خدا کے پیار کی نظر سب سے زیادہ ان گریہ وزاری کے رگوں پر پڑے گی جوان اٹھنے والے نغموں کے وجود میں شامل ہو چکی ہوں گی۔بڑا ہی مبارک دور ہے بڑا ہی سعید دور ہے اور ایسی سعادتیں آپ کو نصیب ہو رہی ہیں جو