خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 445 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 445

خطبات طاہر جلد۵ 445 خطبہ جمعہ ۲۰ /جون ۱۹۸۶ء پھر نوابشاہ ہے حیدر آباد ہے، خیر پور ہے۔ایک کے بعد دوسرے ضلع کی طرف نگاہ کریں کسی نہ کسی رنگ میں اللہ تعالیٰ نے ہر ضلع کو قربانیوں کی توفیق بخشی ہے اور ہر جگہ جماعت بڑے ہی صبر کے ساتھ اور استقلال کے ساتھ اور جوانمردی کے ساتھ قربانیاں پیش کرتی چلی جارہی ہے۔پھر یہ جنوب سے چلنے والی ہوا شمال میں داخل ہوئی اور کبھی ایسا ہوا کہ شمال سے چلی اور جنوب کی طرف چل پڑی۔تو یہ رخ قربانیوں کی ہواؤں کا اسی طرح جاری رہا ہے بڑے لمبے عرصے تک۔لاہور کی جماعت کو اسی طرح قربانیوں کی توفیق ملی۔ساہیوال کے واقعات تو آپ کو از بر ہو چکے ہیں اور کس طرح کثرت کے ساتھ اوکاڑہ میں بھی اور ساہیوال میں بھی اور ملتان بھی میں اور رحیم یارخاں میں بھی اور بہاولپور میں بھی اور بہاولنگر میں بھی اور ڈیرہ غازی خان میں بھی ، راولپنڈی میں ،اٹک میں ، گجرات میں ، گوجرانوالہ میں ، سرگودھا میں ، جھنگ میں ، سیالکوٹ میں ، لاہور کے علاوہ قصور میں، یہ سارے اضلاع ان پر نظر ڈال کر دیکھیں کوئی ایک بھی ضلع ایسا نہیں جہاں جماعت کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی طور پر کلمہ طیبہ کی محبت میں قربانیوں کی توفیق نہ عطا فرمائی ہو۔پھر صوبہ سرحد میں ہزارہ سے بڑا شاندار آغاز ہوا تھا۔اسی لئے میں نے کہا کبھی تو یہ ہوا جنوب سے چلی ہے اور شمال کی طرف روانہ ہوئی کبھی شمال سے چلی ہے اور جنوب کی طرف چلی گئی۔ہزارہ بھی شمالی علاقوں کا ایک حصہ ہے اور صوبہ سرحد میں ہزارہ کی جماعت کو اور ایبٹ آباد کی جماعت کو بہت ہی شاندار، بہت ہی عظیم الشان تاریخی قربانیوں کی توفیق عطا ہو چکی ہے۔پھر بلوچستان رہتا تھا۔کوئٹہ میں جو واقعات گذر گئے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے یہ فیصلہ کیا کہ بلوچستان کی جماعتیں کیوں اس سعادت سے محروم رہیں۔چنانچہ کوئٹہ میں بھی جماعت کو جس شان کے ساتھ ، جس طرح سر کو بلند رکھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے نام کی عزت اور ناموس کا علم بلند رکھتے ہوئے اپنا سب کچھ فدا کرنے کی توفیق ملی ہے، ایک بہت ہی سنہری باب ہے کوئٹہ کی جماعت کی تاریخ کا جو غیر معمولی شان رکھتا ہے۔جہاں تک میرا علم ہے کوئٹہ کی جماعت کو اس سے پہلے بحیثیت جماعت اس طرح اجتماعی قربانی کی کبھی توفیق نہیں ملی تھی۔چھوٹے کیا بڑے کیا، مرد کیا عورتیں کیا۔وہ جن کو تیسری صف کا احمدی خواہ مخواہ ظلم کی راہ سے شمار کیا جاتا تھا یا بعض ان میں سے منافق کہلاتے تھے خواہ مخواہ بے وجہ، اس کو کہا