خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 430 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 430

خطبات طاہر جلد۵ 430 خطبه جمعه ۱۳ جون ۱۹۸۶ء کرتا چلا جارہا ہے اور براہ راست ان لوگوں کو اپنے مد مقابل کھینچتا ہوالا رہا ہے جنہوں نے ہمیں ایک فریق بنا کر ہم سے جنگ کا اعلان کیا تھا۔قرآن کی آیات کھول کھول کر ان کو بتا رہی ہیں کہ اب تمہارا اور احمدیوں کا جھگڑا ختم ہو چکا۔اب تمہارا مجھ سے جھگڑا چلے گا۔میرا قرآن تمہارے خلاف گواہ بن چکا ہے، وہ تمام باتیں جن سے مشرکین نے محمد مصطفی " کو روکا تھا ، وہ تمام باتیں جو قرآن کی رو سے تمام بنی نوع انسان پر فرض تھیں اور کسی کو حق نہیں تھا کہ وہ ان سے رو کے تم نے منفی صورت اختیار کرتے ہوئے محمد مصطفی عملے کے مخالفین کی تائید میں وہ سارے حربے استعمال کرنے شروع کر دیئے جو مخالفین حق کے شیدائیوں کے خلاف کیا کرتے تھے اور تم نے ان ساری باتوں سے روکنا شروع کر دیا جن کو کرنے کا میں نے حکم دیا تھا اور صرف ایک قوم کو ، ایک مذہب کو حکم نہیں دیا تھا تمام بنی نوع انسان کو خدا کے اس پہلے گھر کی طرف میں نے بلایا تھا ، عالم الغيب والشهادة قادر مطلق خدا نے بلایا تھا۔جس نے پہلی مرتبہ بنی نوع انسان کی عبادت کے لئے مشترکہ طور پر وہ گھر تعمیر کروانے کا حکم دیا تھا۔اور بالآخر بنی نوع انسان کے ارتقاء کو وہاں تک پہنچا کر چھوڑا۔وہ ایک گھر جو تمام بنی نوع انسان میں آغاز میں مشترک تھا محمد مصطفی عمل کے ذریعہ بنی نوع انسان کو یہ خوش خبری دی گئی کہ وہی گھر بالآخر ساری دنیا کے انسانوں کا مجمع اور ماوی بنا دیا گیا ہے اور خدا کے اول اور آخر ہونے کا ایک عظیم مظہر ہے کہ جس طرح آغاز میں بیت اللہ کا آغاز ہوا تھا انجام بھی تمام بنی نوع انسان کے مشترک عبادت کے گھر کے طور پر یہاں ہو رہا ہے۔تو تم نے اس کی بھی مخالفت کی اور بنی نوع انسان کو اس حق سے روکا جو ہم نے ان کو عطا کیا تھا۔اس لئے اب تو میرا اور تمہارا معاملہ ہے اب احمدیوں کا اور تمہارا جھگڑا تو ختم ہو چکا ہے۔اس لئے اب جس نے خدا کو چیلنج کیا ہے اور خدا سے جھگڑا مول لیا ہے، اب ہمارا خدا جانے اور وہ جانے۔مجھے تو اس صورت حال پر وہی واقعہ یاد آ رہا ہے جو مکہ میں آنحضرت علی کے دادا کے ساتھ گزرا تھا۔جب ابرہہ نے جو یمن کا گورنر تھا اس غصہ میں کہ اس نے جو خانہ کعبہ کے مقابل پر جو معبد تعمیر کیا تھا اس کو ایک عرب نے نجاست پھینک کر یا گندگی وہاں کر کے گندا کر دیا تھا۔اس کا انتقام لینے کی خاطر اس نے ساٹھ ہزار مسلح سپاہیوں کے ساتھ خانہ کعبہ پر فوج کشی کی اور اہل مکہ اتنے کمزور تھے اس منظم اور تربیت یافتہ فوج کے مقابل پر جو تعداد میں بہت زیادہ تھی کہ کوئی صورت کوئی راہ ان