خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 425
خطبات طاہر جلد۵ 425 خطبه جمعه ۱۳ جون ۱۹۸۶ء تھی اور ان مشرکین کی تسلی کروائی تھی جو تمہارے نزدیک کلمہ پڑھنے والوں اور نماز پڑھنے والوں اور عبادت کرنے والوں سے یہ سلوک کیا کرتے تھے۔کسی احمدی کے الفاظ نہیں ہیں جس پر تم غصہ کرو۔تمہارے ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کا یہ اعلان ہے کہ بعینہ ہم احمدیوں سے آج وہ سلوک کر رہے ہیں جو کسی زمانہ میں مشرکین مکہ حضرت اقدس محمد مصطفی مے سے کیا کرتے تھے۔اس لئے تمہارا مذہب تمہیں مبارک ہو ہم تو دخل اندازی کے قائل نہیں ہیں اور تمہارے کہنے پر ہم تو اپنا مذہب نہیں بدلیں گے۔قرآن ہمیں یہ فرماتا ہے: وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَتُوْا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ (البقره: ۱۵۱) فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِى وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ یہ تو لگتا ہے کہ بعینہ آج جماعت احمدیہ کے حالات کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔اس زمانے کے اہل کتاب کو یہ غصہ تو ضرور آیا تھا قبلہ بدلنے پر یعنی جب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا تقلب اور توجہ فی السماء اللہ نے دیکھی اور آپ کو ارشاد فرمایا کہ اپنی مرضی کا قبلہ فلسطین کی بجائے مکہ کی طرف کرلو تو اہل کتاب کو اسی طرح غصہ آیا تھا جس طرح ان کے قول کے مطابق کلمہ پڑھنے پر مشرکین کو غصہ آتا تھا۔لیکن اس زمانہ کے اہل کتاب نسبتاً زیادہ مہذب تھے۔زیادہ با اخلاق لوگ تھے۔غصہ تو کرتے تھے لیکن اس پر قتل و غارت وغیرہ انہوں نے نہیں کی ، ایک بھی مسلمان کو شہید نہیں کیا گیا، ایک بھی گھر نہیں لوٹا گیا، ایک بھی تیر نہیں چلایا گیا کسی مسلمان کی طرف اس جرم میں کہ انہوں نے قبلہ ملکہ کی طرف کر لیا ہے۔لیکن آج کے علماء کے نزدیک اتنا بڑا جرم بن چکا ہے مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا کہ کہتے ہیں کہ اب تمہاری جان تمہارے مال تمہاری عزتیں ہم پر حلال ہو گئیں۔ہمیں خدا نے ضامن بنایا ہے کہ ملکہ کی طرف منہ کر کے نماز نہیں پڑھنے دینی اس شخص کو جس کو تم غیر مسلم سمجھتے ہو۔عجیب دین بنایا گیا ہے ایسا دین جس کا تصور ہی کہیں دنیا میں موجود نہیں۔ساری دنیا تمسخر اڑائے گی اس Logic کا ، اس طرز فکر کا کہ کیا ہو گیا ہے ان لوگوں کو اور اسلام کا درحقیقت۔دنیا تو