خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 419 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 419

خطبات طاہر جلد۵ 419 خطبه جمعه ۱۳ جون ۱۹۸۶ء ابھی چند دن ہوئے مذہبی امور کے وزیر جناب حاجی ترین صاحب کا ایک بہت ہی دلچسپ بیان شائع ہوا۔اس میں احمدیوں کو بظاہر بڑے مہذب انداز میں ایک مشورہ دیا گیا ہے اور اس کے پیچھے لیٹی ہوئی دھمکیاں ہیں جو ہر معقول انسان کو دکھائی دے دیتی ہیں کیونکہ وہ مہذب زبان کی جو لمع کاری ہے وہ اتنی معمولی اور اتنی سطحی ہے کہ اس کے پرے اصل ارادوں کو بھانپ لینا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں اور ان کا استدلال سنئے کہ ہم اپنے احمدی ہم وطنوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ جب ساری قوم نے اسمبلی کے فیصلہ کے ذریعہ آپ کو غیر مسلم قرار دے دیا ہے تو اسے قبول کرنے میں کیا حرج ہے اور اس کے خلاف ضد کرنا یہ تو ایک باغیانہ طریق ہے قوم کے خلاف۔جب قوم آپ کو غیر مسلم قرار دے چکی ہے تو آپ اس کو قبول کر لیں ، اس میں کیا حرج ہے اور قبول کرنے کے نتیجہ میں ہم اور کچھ نہیں کہتے صرف یہ کہتے ہیں کہ اسلام کے تمام شعائر سے اپنا تعلق کاٹ لیں ، اپنی مساجد کا رخ بدل لیں، قبلہ اور کرلیں، کلمہ سے کوئی تعلق ظاہر نہ کریں اپنا اور کوئی تعلق نہ رکھیں ، بس اتنی سی بات ہے اور معقول وجہ یہ ہے کہ ایک سیاسی اکثریت نے آپ کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے کہ آپ غیر مسلم ہیں ، جب آپ غیر مسلم ہو گئے تو پھر اسلام کے جتنے بھی بنیادی عقائد ہیں ان سے آپ کا تعلق خود بخود ٹوٹ گیا۔جتنے بھی اسلام کے شعائر ہیں ان سے آپ خود بخود منقطع ہو گئے۔اتنی سی معمولی عقل کی بات بھی آپ کو سمجھ میں نہیں آرہی۔یہ ہے ان کا مشورہ جو بڑی بڑی شہ سرخیوں کے ساتھ پاکستان کی اخباروں میں شائع ہوا ہے ورنہ پھر آگے ”ورنہ“ ہے کہ جو ہم تم سے کر رہے ہیں وہ کرتے چلے جائیں گے۔اس مشورہ کے نتیجہ میں اور باتیں جو قابل غور ہیں وہ تو ہیں ہی لیکن خود مشورہ دینے والے نے اپنے اسلام کو بے نقاب کر دیا ، اپنے اسلام کے تصور کا کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیا عملاً۔اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ایک تو تاریخی پس منظر ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے زمانہ میں ندوہ میں اہل عرب کے چوٹی کے سرداروں کا ایک اجتماع ہوا۔قریش سردار سارے جمع ہوئے اور بھاری اکثریت سے جس کے مقابل پر آنحضرت کے ساتھ گنتی کے چند غلام باقی تھے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ ، حضرت ابوبکر صدیق اور ایک دو