خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 420 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 420

خطبات طاہر جلد۵ 420 خطبه جمعه ۱۳ جون ۱۹۸۶ء حضرت خدیجہ اور کچھ دلی ہمدرد، یہ اقلیت تھی ان عرب سرداروں کے مقابل پر چندلوگ غلام چند غریب لوگ ساتھی ، انہوں نے ایک اجتماعی فیصلہ دیا کہ ساری قوم کا یہ فیصلہ ہے کہ تم یہ کر سکتے ہو اور یہ نہیں کر سکتے اور وہ فیصلہ بنیادی طور پر یہی تھا کہ ہم تمہیں کلمہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ ہیں پڑھنے دیں گے۔اتنی سی بات ہے۔اس میں کونسا شدید مطالبہ ہے۔اتنا معمولی چھوٹا سا مطالبہ ہے کہ اس کلمہ سے اپنا تعلق کاٹ لو اور قوم تمہارے لئے سختیوں کی بجائے اپنے سارے نرم پہلو تمہاری خدمت میں پیش کر دے گی اور جتنے مفادات دنیا کے تمہارے ساتھ وابستہ ہو سکتے ہیں وہ سارے مفادات تمہیں مہیا کر دیئے جائیں گے۔یہ خلاصہ تھا اس پیغام کا جو حضرت ابوطالب کے ذریعہ آپ کو بھجوایا گیا اور ایک دفعہ نہیں چار مرتبہ مختلف شکلوں میں یہ اجتماعات ہوئے اور چار مرتبہ مختلف الفاظ میں یہی پیغام دہرایا گیا کہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ بس یہی جھگڑا ہے صرف اس سے اپنا تعلق کاٹ لو تمہارا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔وہ جواب جو حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے دیاوہ تو ایک زندہ اور پائندہ جواب تھا۔وہ ایسا جواب نہیں تھا کہ جسے وقت کے لمحے کسی وقت بھی کاٹ سکیں اور ختم کر سکیں۔وہ امر تھا، گزرتا ہوا وقت اس پر کسی پہلو سے بھی اثر انداز نہیں ہوسکتا لا زوال تھا وہ جواب اور لا زوال ہے اور لازوال رہے گا۔اور وہ یہی تھا کہ تمہاری ساری طاقتیں اپنے سارے کروفر کے ساتھ جو چاہیں کر گزریں اس پیارے کلمہ سے تم ہمارا تعلق نہیں توڑ سکتے۔اس کلمہ سے ایک ذرۃ بھی انحراف کی ہمارے لئے گنجائش ہی موجود نہیں۔آج بھی ہمارا یہی جواب ہے۔تو یہ جو نرم سی بات بنا کر پیش کرتے ہیں ان کو وہ نرم بات بھول گئی ہے جو چودہ سو سال پہلے مکہ میں کی گئی تھی۔آخر عالم بنتے ہیں تو یہ کیسے انکار کر سکتے ہیں کہ تاریخ اسلام میں یہ واقعہ پہلے گزر چکا ہے۔جہاں تک دوسرے انکشاف کا تعلق ہے ان کی اس بات سے جو ہم پر انکشاف ہوا وہ یہ ہے کہ ان کا اپنا دین کا تصور ہی جمہوریت ہے۔ہمارے دین کا تصور یہ ہے کہ ہم خدا کو جوابدہ ہیں وہ خالق ہے، وہ مالک ہے ، اس نے ہمیں پیدا کیا اور جو کچھ اس نے ہم پر فرض قرار دیا وہ ہم پر فرض ہو گیا۔اس کے مقابل پر کسی انسان کو کوئی بھی حق نہیں خواہ وہ جمہوریت ہو یاوہ ڈکٹیٹرشپ ہو یا کسی اور شکل میں استبداد کا تسلط ہو کسی کو کوئی حق نہیں ہے کہ انسان کے مذہب کے معاملہ میں دخل اندازی کرے یہ خدا اور بندے کا تعلق ہے۔ہمارا تو یہ مذہب ہے۔انہوں نے جب یہ مسلمہ پیش کیا کہ