خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 418
خطبات طاہر جلد۵ 418 خطبه جمعه ۱۳ جون ۱۹۸۶ء وہ مہرے وہی ہیں ، وہ مہرے چلنے والے ہاتھ وہی ہیں اور ان کے پیچھے جو عالمی سازش تیار کرنے والے دماغ ہیں وہ وہی دماغ ہیں جو اسی طرح کام کر رہے ہیں۔اس سازش کا جو مرکزی نقطہ تھا اور ہے وہ یہی ہے کہ وہابی فرقہ کے علماء کو جماعت احمدیہ پر ہر طرح کے مظالم توڑنے پر مقرر اور مسلط کر دیا جائے اور ان کے لئے کوئی بھی آخری حد نہ ہو، نہ انسانی اخلاق کے لحاظ سے نہ مذہبی تقاضوں کے اعتبار سے۔ان کے مطالبوں میں، ان کے عمل میں، ان کی مخالفت کی نوعیت میں کسی قسم کی کوئی حدیں باقی نہ رہیں اور اس زور اور شدت کے ساتھ وہ یہ آواز بلند کریں کہ سارے ملک کی توجہ ان وہابی علماء کی طرف مبذول رہے اور دیگر علماء کو جرات نہ ہو کہ ان کے غلط کام کو غلط کہہ سکیں۔اور سیاستدان ان سے اس قدر مرعوب ہو جا ئیں کہ وہ آواز بلند کرنے کی طاقت نہ پائیں کہ یہاں تم مذہب کو چھوڑ کر مذہب کے مخالفانہ طرز عمل اختیار کر چکے ہو اس لئے اس حد سے آگے تمہیں نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔اتنا زیادہ بار بار ہٹلر کے جھوٹے پروپیگنڈے کے فلسفے کے مطابق انتنا بار بار جھوٹ بولا جائے اور اس شدت کے ساتھ احمدیت کے خلاف منافرت کی آواز بلند کی جائے کہ ساری ملکی سیاست مرعوب ہو کر ان کے تابع ہو جائے۔تمام دیگر فرقے جو ویسے سخت نفرت کی نگاہ سے اس فرقے کو دیکھتے ہیں وہ بھی اس خوف سے کہ ہمیں احمدیت کا نمائندہ یا احمدیت کا پلیڈر نہ سمجھا جائے وہ بھی خاموش ہو جائیں اور کوئی ملک سے ایسی آواز نہ اٹھ سکے جو در حقیقت ان علماء کے طرز عمل کے خلاف آواز ہو اور مرکزی نقطہ اس کا یہی رہے کہ دن بدن یہ علماء زیادہ طاقت اختیار کرتے چلے جائیں اور ایسی پالیسی کے تابع ایسے طرز عمل کے تابع کہ ملک میں کسی کے لئے مخالفت کی گنجائش ہی باقی نہ چھوڑی جائے۔چنانچہ یہ طرز عمل جہاں تک مارشل لاء کی سر پرستی کا تعلق ہے مارشل لاء کی سر پرستی میں بھی جاری رہی اور اب بدلی ہوئی مارشل لاء کی شکل میں بھی جبکہ صدر ، فوج کا نمائندہ ہے اب بھی اسی طرح جاری ہے بلکہ اپنی بھیا نک خدو خال کے اعتبار سے اور زیادہ خوست اختیار کرتی جارہی ہے اور زیادہ بے نقاب ہوتی چلی جارہی ہے۔بے نقاب سے بہتر لفظ بے حجاب ہے اس موقع پر جو چسپاں ہوتا ہے تو اور زیادہ ہی بے حجاب ہوتی چلی جارہی ہے۔حیاء کے سارے تقاضے توڑ ڈالے ہیں مذہبی اقدار کا کوئی حصہ بھی کوئی جرہ بھی باقی نہیں چھوڑا۔