خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 36
خطبات طاہر جلد۵ 36 خطبہ جمعہ ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء بعض جگہ آتا ہے مگر زیادہ تر اقتدار کا مضمون ہے اس لئے مقتدر صفت بیان کی جاتی ہے۔تو جب دشمن خدا کی قدرت پر غلبہ پانے کی کوشش کریں اُس وقت جب خدا کی قدرت جلوہ دکھاتی ہے تو وہ مقتدر کی قدرت ہے جو جلوہ گر ہورہی ہوتی ہے۔چنانچہ دیکھئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَدِرٍ عَلَى أَنْ يَحْيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى (الاحقاف: ۳۴) كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر کا محاورہ تو شروع سے آخر تک چونکہ عمومیت رکھتا ہے ہر چیز پر ثابت آتا ہے لیکن لفظ قادر وہاں استعمال فرمایا جہاں عام قدرت کو تو لوگ تسلیم کر رہے ہیں۔خدا کے قدیر ہونے کے ان معنوں میں تو قائل ہیں کہ سب کچھ ہو رہا ہے لیکن ایک نئی تخلیق پر قدرت کا انکار کر رہے ہیں اور فرمایا وَلَمْ يَعْىَ بِخَلْقِهِنَّ جس قدیر خدا نے پہلی تخلیق جاری فرمائی تھی یہ نہ سمجھو کہ وہ اب اپنی تخلیق سے عاجز آچکا ہے یا جو کچھ تخلیق کر چکا اس پر ختم کر بیٹھا ہے وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ اور یہ بھی نہ سمجھو کہ زمین و آسمان کی تخلیق کے بعد خدا کی قدرت کا ان کے ساتھ تعلق نہیں رہا یا اس کی محتاج نہیں رہی۔جاری تعلق ہے ایک جو تمہیں نظر نہیں آرہا وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ ابھی بھی ان میں تخلیق ہو رہی ہے ابھی بھی نئی نئی قسم کی ان میں۔Development اور Evolutions کئی مضمون کی جاری ہیں اور تم دیکھ نہیں رہے ان کو۔بقدرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِ الْمَوْلى يي قدير خدا ہے جو اس بات پر بھی قادر ہے جہاں لفظ قادر اس معنوں میں استعمال ہوا ہے کہ عام قدرت سے ہٹ کر ایک نئی جلوہ نمائی فرمائے گا کہ وہ مردوں کو بھی زندہ کر دے۔پھر جہاں بھی تعجب کا مضمون آتا ہے وہاں قدیر کی بجائے قادر کا لفظ استعمال فرماتا جاتا ہے: أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ اَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ بَلَى قَدِرِينَ عَلَى أَنْ تُسَوَّى بَنَانَهُ ( القيمة : ۴-۵) کیا انسان خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جوڑ نہیں سکتے پھر۔نہیں نہیں ہم تو اس بات پر بھی قادر ہیں کہ اس کا انگ انگ دوبارہ اکٹھا کر دیں، ذرہ ذرہ دوبارہ جوڑ دیں۔