خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 35 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 35

خطبات طاہر جلد۵ 35 خطبہ جمعہ ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء سکھائی جائے لفظوں سے بالا ہو کر ، جو فطرت میں داخل کر دی جائے جس کی قوت اتنی زیادہ ہو کہ وہاں انکار کی مجال ہی کوئی نہ ہو اور لازماً اُس تعلیم کے مطابق چلنا ہو کسی نے اس تعلیم کو تقدیر کہا جاتا ہے اور یہی قدرت کا سب سے بڑا مظہر ہے۔اب میں دوسرے مضمون کی طرف آتا ہوں جو میں نے بیان کیا تھا قادر اور مقتدر۔قادر اور مقتدر اور قدیران تینوں صفات میں عموماً زیادہ فرق نہیں کیا جاتا ہے اور لغت کی کتابیں لکھنے والے کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر تینوں کا ایک ہی معنی ہے لیکن جہاں تک قرآن کریم کے استعمال کا تعلق ہے قرآن کریم نے ان تینوں الفاظ کو الگ الگ مخصوص معنوں میں استعمال کیا ہے اور بعض الفاظ کو زیادہ عمومی طور پر استعمال کیا ہے بعض کو نسبتا کم عمومی طور پر یعنی خصوصی طور پر اور الگ الگ محلات کے لئے بعض الفاظ کو چنا ہے۔قدیر کا لفظ سب سے زیادہ عموم اپنے اندر رکھتا ہے چنا نچہ تخلیق عالم کے متعلق جہاں جہاں بھی قرآن کریم میں ذکر ہے وہاں قدیر کا لفظ ملتا ہے ، مقتدر اور قادر نہیں ملتا لیکن قدیر کا حوالہ دے کر جب کوئی نئی قدرت کی جلوہ نمائی دکھانا مقصود ہو تو وہاں لفظ قادر کا استعمال آتا ہے۔یعنی قدیر کو قرآن کریم زیادہ عمومی صفت کے طور پر پیش فرماتا ہے جو ہر میدان میں کارفرما نظر آ رہی ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ تخلیق اول پہلی مرتبہ جو کائنات کو پیدا کیا گیا ہے اور پھر اُس میں جاری خدا کی قدرت جو دکھائی گئی ہے، جب خدا تعالیٰ قرآن کریم میں اس مضمون کا بیان فرماتا ہے تو خدا کی صفت قدیر ساتھ ہی ذکر فرماتا ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جب ایک خدا کی قدرت کا ایسا جلوہ دکھانا مقصود ہو جو عام جاری تقدیر کے علاوہ ہو اور جاری تقدیر سے انسان جتنا روز مرہ روشناس ہونے کے بعد اُس کو نظر انداز کر بیٹھا ہے جب یہ بتانا مقصود ہو کہ جا گو! اور ہوش کرو، وہ خدا جس نے یہ سب کچھ جاری کیا ہے وہ اس بات پر بھی قادر ہے تو وہاں لفظ قا در استعمال فرماتا ہے۔یعنی ایسا قدرت کا جلوہ جو کبھی کبھی بیدار کرنے کے لیے آتا ہو ، عام جاری جلوے سے مختلف مضمون پیدا کرتا ہو، عام تخلیق سے ہٹ کر ایک نئی تخلیق بنا تا ہو وہاں قادر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔مقتدر عموماً اُس جگہ استعمال ہوتا ہے جہاں مقابلے کے بھی معنی پائے جاتے ہوں۔مثلاً آنحضرت ﷺ کا جب مخالفین پر غلبے کا مضمون بیان ہوگا تو وہاں قادر اور قدیر کی نسبت قادر کا لفظ بھی