خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 411
خطبات طاہر جلد۵ 411 خطبہ جمعہ ۶ جون ۱۹۸۶ء تلے اکٹھے ہو جاؤ اور ذکر الہی کے آداب مجھ سے آکے سیکھو اور ذکر الہی کی لذتوں کو دوبارہ زندہ کرو، اس آواز کو سننے کے باوجود جو لوگ اس کی طرف پیٹھ پھیر کر واپس مڑ رہے ہیں یا استہزاء کی نظر سے اس آواز کو دیکھتے ہیں یا سنتے ہیں اور ان سنی کر دیتے ہیں ان کے لئے بھی دعا کریں۔اصل جمعہ یہی جمعہ ہے کہ خدا کی طرف بلانے والے کی آواز پر لبیک کہا جائے اور اس سے بڑا جمعہ اور کوئی جمعہ نصیب انسان کو نہیں ہو سکتا۔اس لئے نہ صرف یہ کہ اپنے غیر احمدی بھائیوں کے لئے دعا کریں بلکہ اس مضمون کو آگے بڑھائیں اور یہ غور کریں کہ اصل منادی کرنے والے تو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺے ہیں، اصل جمعہ تو آپ کا جمعہ ہے، اصل اذان تو آپ کی اذان ہے۔اس لئے جب آپ اس مضمون پر غور کرتے ہیں تو پھر احمدیت غیر احمدیت کی حدود سے بات بہت زیادہ آگے وسیع ہو جاتی ہے، ساری دنیا پہ پھیل جاتی ہے اور انسان اس دعا پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اے اللہ تمام عالم کو یہ توفیق عطا فرما کہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی اذان پر لبیک کہیں اور تمام بنی نوع انسان کے ایک ہاتھ پر جمع ہونے کے سامان پیدا فرما دے۔پس آج کے جمعہ میں یہ تین دعائیں خصوصیت کے ساتھ کریں اول عبادت گزاروں کے لئے انفرادی طور پر ، دوسرے مسلمانوں کے لئے خصوصیت سے جن کا حق باقی بنی نوع انسان سے ہم پر زیادہ ہے کہ وہ خدا کی آواز پر لبیک کہنا سیکھیں اور ان کے لئے مستقل جمعہ کی صورت پیدا ہو جائے اور تیسرا تمام بنی انسان کے لئے کہ اللہ تعالیٰ انہیں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ہاتھ پر جمع ہو کر اس ابدی اور ہمیشہ ہمیش کے لئے سعید جمعہ میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔اس کے علاوہ ایک دعا وہ ہے جو ہر وقت آج احمدی کے دل کے ساتھ لگی ہوئی ہے کہ پاکستان کے مظلوم بھائیوں کے دن خدا پھیر دے اور ان کی تکلیفیں اگر چہ ایک غیر معمولی سعادت کا رنگ رکھتی ہیں لیکن پھر بھی تکلیفیں ہیں۔ان تکلیفوں کو اجر میں بدل دے۔اجر بھی تو ایک سعادت ہے اس لئے جب ہم کہتے ہیں کہ ان کی تکلیفیں دور فرما دے تو یہ مراد نہیں کہ سعادتیں دور کر دے۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ یہ امتحان بھی ایک سعادت ہے لیکن امتحان کا نتیجہ بھی تو سعادت ہے اس لئے اب دوسری سعادتیں عطا فرما۔آزمائش کے دن ختم کر اور لامتناہی رحمتوں کے دن جاری فرما دے اور ان