خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 406
خطبات طاہر جلد۵ 406 خطبہ جمعہ ۶ جون ۱۹۸۶ء یہ مفہوم تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی ان آیات سے سمجھا کہ دعاؤں کو بلندی عطا کرنے کے لئے یہاں تک کہ وہ آسمان کے کنگروں کو چھونے لگیں ضروری ہے کہ عمل ان کا مؤید ہو، ان کا مددگار ہو۔بسا اوقات دعا کرنے والے کا عمل انسان کی دعاؤں کا مددگار بنتا ہے۔اسی لئے جب کہا جاتا ہے مستجاب الدعوات ہے، وہ نیک ہے اس سے دعا کی درخواست کرو۔تو یہی مفہوم ہے ورنہ دعا تو ہر ایک انسان کرتا ہے اور بعض دفعہ بدوں کی دعا بھی سنی جاتی ہے اس سے کوئی انکار نہیں۔لیکن جس کا عمل مستقل دعا کی مدد کر رہا ہے وہ اس کو طاقت بہم پہنچا رہا ہے اس کی دعا واقعہ عرش تک پہنچ رہی ہوتی ہے۔بعض دفعہ جس کے لئے دعا کی جاتی ہے اس کا عمل بھی ضروری ہوتا ہے۔اگر وہ بے پرواہ ہے ان نیکیوں سے جن نیکیوں کے لئے اس کی خاطر دعا کی جاتی ہے تو اس کے حق میں قبول نہیں کی جاتی۔اس مسئلہ کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں بعض لوگوں نے بعض حدیثوں کے مفہوم کو سمجھا نہیں اور غلط اعتراضات پیدا ہوئے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے دو اشخاص کی ہدایت کی دعا خاص طور پر اپنے رب سے کی تھی ایک وہ جو ابو جہل کے نام سے مشہور ہوا اور ایک ان میں سے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔( ترمذی کتاب المناقب حدیث نمبر: ۳۶۱۴) عمرؓ کے حق میں حضرت اقدس محمد مصطفی ملنے کی دعا مقبول ہوئی اور بعض نادان یہ سمجھتے ہیں کہ ابو جہل کے حق میں مقبول نہیں ہوئی اور گویا آنحضرت علی کی ایک دعانا مقبول ہوگئی۔آپ کی دعانا مقبول نہیں ہوئی ، یہ کلمہ گستاخی کا ہے۔ابوجہل کا عمل نامقبول تھا اور اس عمل کی نا مقبولیت تھی جو اس صورت میں ظاہر ہوئی کہ وہ جاہل کا جاہل مر گیا بلکہ اجہل ہو کے مرا۔اس لئے جس کے حق میں دعا کی جاتی ہے اس کے عمل کی صداقت اس کی سچائی ان دعاؤں کی مدد کر رہی ہوتی ہے جو دعا کرنے والا ہوتا ہے، اس کی دعاؤں کی مدد کر رہی ہوتی ہے۔پس آج اس نکتہ کو سمجھ کر اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے ان بھائیوں کے لئے دعائیں کریں جن کا آج کا عمل آپ کی دعاؤں کی تائید کر رہا ہے۔آج انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ عبادت کی کچھ نہ کچھ عظمت وہ ضرور اپنے دل میں رکھتے ہیں، کچھ نہ کچھ اطاعت کا جذ بہ ضرور ان کے دل میں زندہ موجود ہے۔اگر وہ زندگی کی رمق نہ ہوتی تو آج کے دن بھی وہ خدا کے حضور حاضر نہ ہوتے۔