خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 405 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 405

خطبات طاہر جلد۵ 405 خطبہ جمعہ ۶ جون ۱۹۸۶ء کریں گی اور دل میں خوشی محسوس کریں گی اور واقعہ کچھ لوگ ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔واقعہ ان مسجدوں کی رونق کو دیکھ کر کچھ ایسے بندے بھی ہیں جن کا دل خوشیوں سے بھر جاتا ہے۔وہ چندلحوں کے لئے ایسی روحانی مسرت محسوس کرتے ہیں کہ ان کی ہر نظر جو نئے آنے والوں پر پڑتی ہے دعا بن کے پڑتی ہے۔پیار اور محبت سے دیکھتے ہیں۔خوش ہو رہے ہوتے ہیں کہ اجنبی لوگ دکھائی دے رہے ہیں۔مگر دیکھو کس طرح سج دھج کر پہنچے ہیں، بعضوں نے ٹوپیاں مانگی ہوئی ہیں، کسی نے رومال باندھے ہوئے ہیں، کسی نے اور طرح سے خدا کی عزت اور احترام کا اظہار کرنے کا طریقہ ڈھونڈا ہے اور دلوں کی جو سعادت ہے وہ ان کے چہروں سے نظر آتی ہے محسوس کرتے ہیں کہ یہ دن واقعی عظمت کے لائق دن ہے۔آنا چاہئے تھا اگر چہ ہم پہلے نہیں آسکے مگر اس ایک دن ہی حاضر ہو جائیں شائد خدا تعالیٰ کی رحمت ہمیں قبول فرمالے۔یہ جذبے ان کے چہروں پر لکھے جاتے ہیں۔چونکہ اس وقت ان کا عمل اس نیکی میں محمد بن رہا ہے آپ کی دعاؤں کا، اس لئے آج اگر آپ ان کے لئے دعائیں کریں تو زیادہ مقبول ہوں گی۔اس لئے اس جمعہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو خدا کی عبادت سے غافل ہوں اور خود ان کے دل میں کوئی تحریک پیدا نہ ہو اور وہ خود عبادت کی اہمیت کو اپنے عمل میں نہ ڈھالیں اور محض فرضی طور پر اس اہمیت کا تصور باندھیں۔ایسے لوگوں کے لئے اگر آپ دعا کریں گے تو چونکہ ان کا عمل آپ کی دعا کے مخالف جا رہا ہو گا اس لئے دعا کو وہ تائیدی ہوا حاصل نہیں ہوتی جو عمل سے حاصل ہوتی ہے۔یہ ایک ایسا نکتہ ہے جو قرآن کریم نے ہمیں سکھایا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ کلمہ طیبہ کو آسمان کی طرف بلند ہونے کے لئے نیک عمل کی طاقت کی ضرورت ہے۔بعض دفعہ یہ نیک عمل، اپنا ہوتا ہے کلمہ طیبہ بلند کرنے والے کا اور بعض دفعہ جس کے لئے دعا کی جاتی ہے اس کا نیک عمل ضروری ہوتا ہے اس کلمہ طیبہ کو بلند کرنے کے لئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس عارفانہ نکتہ کو سمجھا اور سمجھایا اور آپ کے عظیم احسانات میں سے ایک یہ بھی احسان ہے۔چنانچہ بعض دفعہ دعا کی تحریک کرنے والوں سے آپ نے فرمایا کہ میرے اکیلے کی دعا تمہارے لئے قبول نہیں ہوگی جب تک تم خود دعا نہ کرو میرے ساتھ۔تمہاری دعاؤں کے نتیجہ میں میری دعاؤں میں رفعت پیدا ہوگی کیونکہ ثابت ہوگا کہ تمہارے نزدیک دعا کی اہمیت ہے۔