خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 397
خطبات طاہر جلد ۵ 397 خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۶ء ہیں نہیں بس آگے قدم نہیں بڑھانا اتنا ہی بہت ہے اتنا زیادہ غم نہ کر۔ تو جب انسان خدا کی خاطر اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتا ہے تو اللہ تعالیٰ خود اس کو مشقت سے روکتا بھی ہے اور اس پر اس معنی میں بھی اپنے رحم کی تجلی فرماتا ہے۔ پس رمضان کا جتنا بھی وقت باقی ہے اس سے فائدہ اٹھائیں اور یہ نہ ہو کہ آخر پر بہت سے لوگ حسرت سے یہ کہتے ہوئے اس رمضان سے گزریں کہ ع اب کے بھی دن بہار کے یونہی گزر گئے خدا کی طرف سے روحانی بہار کے دن آئے بھی اور ہم اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ جو لوگ لیلتہ القدر کے خواہاں ہیں اور لیلۃ القدر کی تلاش میں رمضان کی آخری راتوں میں سعی کرنے والے ہیں ان لوگوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ لیلۃ القدر کی جو علامتیں عام طور پر مشہور و معروف ہیں وہ تو ایسی ہیں جو بعض دفعہ اتفاقات سے بھی پیدا ہو جاتی ہیں مثلاً بجلی کی کڑک ہے ، ہلکی ہلکی رحمت کی بارش کا ہونا یا دل کی کیفیات کا کسی خاص وقت میں خاص موج میں آ جانا اور اللہ تعالیٰ کی خاص محبت کا محسوس کرنا ۔ یہ ساری کیفیات ہیں جو مختلف انسانوں پر مختلف حالتوں میں طاری ہوتی رہتی ہیں۔ اس لئے یقین کے ساتھ آدمی نہیں کہہ سکتا کہ جس تجربہ سے وہ گزرا ہے وہ ضرور لیلۃ القدر کا تجربہ تھا۔ لیکن ایک بات میں آپ کو یقین کے ساتھ بتاتا ہوں اگر وہ آپ کو نصیب ہوگئی تو لازماً آپ کو لیلۃ القدر نصیب ہوگئی ۔ اس آخری عشرے میں جب بھی وہ رات آپ کو ملی جس رات آپ نے اپنے گناہوں سے ہمیشہ کے لئے کلیہ سچی توبہ کر لی اور ایسی تو بہ کی کہ پھر آپ لوٹ کر ان گناہوں میں واپس نہیں جائیں گے تو یقین جانیں کے وہی آپ کے لئے لیلۃ القدر ہے اور وہ ہزار مہینوں سے بہتر رات تھی جو آپ کے اوپر آگئی ، اس کے بعد آپ کے لئے کوئی خوف نہیں ۔ پھر اولیاء اللہ میں آپ کے داخل ہونے کے دن آنے والے ہیں ۔ اس لئے ایسی رات کی تلاش کریں جو گناہوں سے تو بہ کی رات بن جائے اور ایسی توبہ کی رات بنے کہ اس کے بعد پھر آپ مڑ کر ان گناہوں کی طرف نہ دیکھیں۔ پھر آپ کی جتنی بھی راتیں آئیں گی آپ کے لئے لیلتہ القدر ہی ہے اور خدا کی رحمتیں اور برکتیں ہمیشہ آپ پر نازل ہوتی رہیں گی۔ اس لئے ان دعاؤں کے ساتھ رمضان کا آخری عشرہ گزاریں اور اپنے مظلوم بھائیوں کے لئے خصوصیت کے ساتھ دعا کریں۔