خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 396 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 396

خطبات طاہر جلد۵ 396 خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۶ء میں ملا۔ایسے دل کو خدا طاقت بخشے گا ( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۵۶۳) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” جب میں نے چھ ماہ روزے رکھے تھے تو ایک دفعہ ایک طائفہ انبیاء کا مجھے ( کشف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسلسل ایک دفعہ چھ ماہ کے روزے رکھے اور غذا کم کرتے کرتے یہاں تک کم کر دی کہ آپ فرماتے ہیں کہ عام طاقت کا انسان اگر اس غذا پر آتا تو مرجا تا لیکن اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی طاقت عطا فرمائی اور غیب سے اس لحاظ سے بھی رزق عطا فر مایا کہ جس غذا پر عام انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔اس غذا پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کئی ماہ تک مجاہدہ فرماتے رہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے عبادت کے حقوق بھی ادا کرتے رہے، اتنی طاقت کے ساتھ رہے۔تو فرماتے ہیں، جو خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں احسانات فرمائے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ انبیاء کا ایک گروہ مجھے ملا : اور انہوں نے کہا کہ تو نے کیوں اپنے نفس کو اس قدر مشقت میں ڈالا ہوا ہے، اس سے باہر نکل۔اسی طرح جب انسان اپنے آپ کو خدا کے واسطے مشقت میں ڈالتا ہے تو وہ خود ماں باپ کی طرح رحم کر کے اسے کہتا ہے کہ 66 تو کیوں مشقت میں پڑا ہوا ہے ( ملفوظات جلد ۲ صفحه : ۵۶۴) اس کی مثال ویسے ہی ہے جیسے آنحضرت علی کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو کیوں اپنی جان کو ہلاک کر رہا ہے ان لوگوں کے غم میں : فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا (الکھف:۷) بِهَذَا الْحَدِيْثِ أَسَفًا پھر فرمایا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: ۳) اے محمد یہ تو اپنے آپ کو اس غم میں کیوں ہلاک کر رہا ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے یعنی حضور اکرم ہے تو غم میں ہلاک ہو رہے ہیں اور اللہ روک رہا ہے جس کی خاطر ہلاک ہور ہے