خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 395 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 395

خطبات طاہر جلد۵ 395 خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۶ء میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: ” میری تو یہ حالت ہے کہ مرنے کے قریب ہو جاؤں تب روزہ چھوڑتا ہوں۔طبیعت روزہ چھوڑنے کو نہیں چاہتی۔یہ مبارک دن ہیں اور اللہ کے فضل و رحمت کے نزول کے دن ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحه : ۴۳۹) پھر فرماتے ہیں: ایک دفعہ میرے دل میں خیال آیا کہ یہ فدیہ کس کے لئے مقرر کیا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ توفیق کے واسطے ہے تاکہ روزہ کی توفیق اس سے حاصل ہو۔خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو توفیق عطا کرتی ہے اور ہر شے خدا ہی سے طلب کرنی چاہئے یہ ایک ایسا لطیف مضمون ہے جو سوائے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آج تک کسی مفسر نے روشن نہیں فرمایا۔وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مسکین بالکل ایک اور رنگ میں اس آیت کا مضمون کھل گیا کہ وہ لوگ جو روزہ کی طاقت نہیں رکھتے لیکن تمنا رکھتے ہیں اور حسرت رکھتے ہیں کاش ہم بھی روزہ رکھ سکیں ان کے لئے ترکیب یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ فدیہ دیں۔ایک غریب کا پیٹ بھریں، اس کی دعائیں لگیں گی تو اللہ تعالیٰ روزہ کی تو فیق بھی عطا فرمائے گا۔غرضیکہ حصول طاقت کے لئے فدیہ ہے جواب یہ ہے کہ جن لوگوں کے اندر وزہ رکھنے کی طاقت نہیں وہ بے قرار ہیں ان کو ہم بتاتے ہیں کہ اگر وہ فدیہ ادا کر دیں گے تو خدا تعالیٰ ان کی توفیق کو بڑھا دے گا۔فرماتے ہیں: وو ہر شے خدا سے ہی طلب کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ تو قادر مطلق ہے۔وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزہ کی طاقت عطا کر سکتا ہے۔تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جاوے اور یہ خدا کے فضل سے ہوتا ہے۔پس میرے نزدیک خوب ہے کہ (انسان) دعا کرے کہ الہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور یہ کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کرسکوں یا نہ۔اور اس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ