خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 34
خطبات طاہر جلد۵ 34 خطبہ جمعہ ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء فرمائیں اور لکھ دیں کہ ایسے ہو گا تو آپ جب کہتے ہیں کہ کھی ہوئی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے ہل نہیں سکتی جو لکھی ہوئی ہو اس کا یہی معنی ہے۔ہر چیز لکھی ہوئی ہے ،ایک ایک ذرہ کے اندر اُس کی تمام حرکات وسکنات جو اُس نے کرنی ہیں وہ لکھی ہوئی موجود ہیں۔کچھ بہت معمولی حصہ ایسا ہے جو سائنس دان پڑھ سکیں ہیں لیکن لا متناہی ایسا حصہ ابھی موجود ہے جسے وہ پڑھ نہیں سکتے صرف جب وہ لکھی ہوئی کے مطابق ایک حرکت ہوتی ہے تو وہ اس حرکت کو دیکھنے لگ جاتے ہیں۔اس کے پیچھے کیا کیا کچھ لکھا ہوا ہے اس تک ابھی اُن کی نگاہ نہیں جاسکی۔ہوسکتا ہے آئندہ زمانے میں سائنس جب ترقی کرے تو کچھ اور مضامین بھی پڑھنے کے قابل ہو جائے۔اس کو عام محاورے میں بھی تعلیم ہی کہا جاتا ہے چنانچہ غالب اپنے ایک شعر میں اسی مضمون کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ پر تو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک (دیوان غالب صفحه: ۱۳۷) کہ جب سورج کا عکس پڑتا ہے تو شبنم کے قطرے کو تعلیم ہی یہی ہے کہ وہ غائب ہو جائے وہ فنا ہو جائے۔سورج کا نظارہ کرے اور ایک ہی دید کے ساتھ وہ خود فنا ہو جائے۔کہتا ہے اے میرے محبوب ! میں بھی ایک عنایت کی نظر ہونے تک۔میری فطرت میں بھی محبت نے یہی تعلیم لکھ دی ہے کہ میں تمہیں دیکھوں اور خود فنا ہو جاؤں۔یہ تو دنیا کے لحاظ سے تو قصے ہیں اور ہر گز ماننے کی باتیں نہیں ہیں کہ کوئی شخص کسی دوسرے کے لئے اپنے وجود کو مٹادے مگر مذہبی دنیا میں ایسا واقعہ نظر آتا ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے جب خدا کا جلوہ دیکھا تو اپنے وجود کو مٹا دیا۔آپ کو ی تعلیم تھی ، آپ کی تقدیر یہی تھی کہ خدا جلوہ گر ہو اور خود محمد مصطفی ﷺ کا ذاتی وجو دمٹ جائے اور کلیاً خدا جلوہ گر ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہی تعلیم تھی کہ حمد مصطفی ﷺ کا جلوہ دیکھیں اور اپنے وجود کومٹادیں۔چنانچہ اسی سے ہمیں ظل کا مضمون سمجھ آیا۔یہ وہ تعلیم ہے جسے ہم تقدیر بھی کہتے ہیں اور ان معنوں میں اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھایا کہ قدرت کا معنی تعلیم بھی ہے اور جب اس پہلو سے ہم غور کرتے ہیں تو قدرت کا سب سے زیادہ وسیع سب سے زیادہ اطلاق پانے والا معنی ہے ہی تعلیم۔ہر وہ بات جو